Times of Pakistan

جیکب آباد میں پسند کی شادی کا تنازع قبائلی تصادم میں تبدیل،

17 minutes ago 1
ARTICLE AD BOX

گاؤں نذرِ آتش کرنے کے معاملے پر دو بااثر سردار آمنے سامنے، متاثرین نے دونوں کو ذمہ دار ٹھہرا دیا

جیکب آباد میں پسند کی شادی کا تنازع شدت اختیار کرتے ہوئے قبائلی تصادم کی شکل اختیار کرنے لگا۔ گاؤں صدیق آرائیں کو نذرِ آتش کرنے کے معاملے پر دو بااثر قبائلی سردار ایک دوسرے کے مدمقابل آگئے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں نے دونوں شخصیات کو واقعے کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ علاقے میں خوف، کشیدگی اور بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔

جیکب آباد کے گاؤں صدیق آرائیں میں پسند کی شادی کے بعد پیش آنے والے گھروں کو جلانے کے واقعے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔ واقعے کے بعد دو بااثر قبائلی سردار ایک دوسرے پر سنگین الزامات عائد کررہے ہیں جبکہ متاثرین انصاف کے منتظر ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے واقعے کے بعد کئی گھر مکمل طور پر تباہ ہوگئے اور متعدد خاندان آج بھی بے گھر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب گاؤں جلانے کے واقعے کی ایک اور ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے، جس میں سیکڑوں افراد کو موجود دیکھا جاسکتا ہے جبکہ مختلف گھروں میں آگ بھڑکتی دکھائی دے رہی ہے۔ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد واقعے کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں دائر درخواست میں سردار احمد علی چنہ، سردار صدام برڑو اور خدا ڈنو چنہ کے نام مقدمے میں شامل کرنے کی استدعا کی گئی تھی، جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

عدالت نے سردار احمد علی چنہ، سردار صدام برڑو اور خدا ڈنو چنہ کو 20 مئی کو طلب کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں سردار ایک دوسرے پر گھروں کو جلانے کے الزامات عائد کررہے ہیں، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

دوسری جانب ایس ایس پی فیضان علی کے مطابق مقدمے میں گرفتار 5 ملزمان کو آج انسداد دہشتگردی عدالت شکارپور میں پیش کیا جائے گا۔

ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ دیگر نامزد ملزمان گرفتاری کے خوف سے اپنے گھر چھوڑ کر فرار ہوچکے ہیں، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید 2 خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

Read Entire Article