Times of Pakistan

جین زی احتجاج سے مودی حکومت کی گھبراہٹ: دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

2 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

جمعے تک اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ بھارتی حکومت اپنے ایک سینئر وزیر سے استعفا لینے پر آمادہ ہوجائے گی، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی

شائع 26 جولائ 2026 10:17am

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبا تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے کامیاب احتجاج کے بعد بھارتی حکومت گھبراہٹ کا شکار ہوچکی ہے، وہیں بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے اچانک استعفے کی اندرونی کہانی بھی سامنے آئی ہے۔

بھارتی نیوز ویب سائٹ این ڈی ٹی وی کے مطابق وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان نے ہفتے کے روز اپنے عہدے سے استعفا دیا، جس کے بعد کئی ہفتوں سے جاری طلبہ کا احتجاج اختتام پزیر ہوگیا۔

اس پیش رفت کو طلبہ اور احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کے اس فیصلے نے سیاسی حلقوں میں بھی حیرت پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمعے تک اس بات کے کوئی آثار نہیں تھے کہ بھارتی حکومت اپنے ایک سینئر وزیر سے استعفا لینے پر آمادہ ہوجائے گی، تاہم صرف 24 گھنٹوں کے اندر صورت حال یکسر بدل گئی۔

وزیرِ تعلیم نے استعفا دے دیا، حکومت نے طلبہ کے نمائندوں سے دوبارہ مذاکرات شروع کیے اور احتجاجی تنظیم نے کئی ہفتوں سے جاری اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ اہم تبدیلی اس وقت سامنے آئی جب جمعے کے روز حکومت اور سی جے پی کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ہوا۔ یہ مذاکرات میڈیکل امتحانات نیٹ کے پرچے لیک ہونے کے معاملے پر کئی ہفتوں سے جاری احتجاج کے بعد کیے گئے تھے، لیکن یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مذاکرات میں بھارتی وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیر جتیندر سنگھ اور سی جے پی کے رہنما شریک تھے۔ اجلاس میں احتجاجی قیادت نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے بنیادی مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

احتجاجی طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے، دھرمندر پردھان کا استعفا۔

سی جے پی نے حکومت کو 72 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم کو عہدے سے نہ ہٹایا گیا تو طلبہ دوبارہ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے، جیسا کہ 20 جولائی کو کیا گیا تھا، جہاں احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی بھی ہوئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق احتجاجی قیادت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر حکومت نے مقررہ وقت میں کوئی فیصلہ نہ کیا تو وہ اس ڈیڈ لائن کا عوامی اعلان بھی کر دے گی۔

جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ وہ حکومتی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ آگاہ کریں گے۔

مذاکرات ناکام ہونے کے بعد دونوں وزرا نے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو صورتحال سے آگاہ کیا۔

اسی دوران وزارتِ تعلیم نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کے 47 اہلکاروں کو برطرف کیا، جسے احتجاج کرنے والے طلبہ کو سخت پیغام دینے کی کوشش قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ این ٹی اے کی تنظیمِ نو کے تحت نئے عملے کی بھرتی کا عمل بھی شروع کیا گیا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف قوانین مزید سخت بنانے کے لیے ایک ترمیمی بل کی بھی منظوری دی۔ حکومت نے امتحانی نظام میں اصلاحات، سیکریٹری تعلیم کے تبادلے اور پرچہ لیک کے مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

تاہم ان تمام اقدامات کے باوجود احتجاجی طلبہ اپنے مؤقف پر قائم رہے اور انہوں نے کہا کہ ان کا فوری مطالبہ صرف وزیرِ تعلیم کا استعفا ہے۔

پھر ہفتے کی صبح سی جے پی کے داخلی اجلاس سے پہلے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ نے ایک بار پھر امت شاہ سے ملاقات کی۔ اسی دوران دھرمندر پردھان نے اپنا استعفا وزیراعظم نریندر مودی کو ارسال کیا۔

رپورٹس کے مطابق استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد حکومت اور سی جے پی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور ہوا، جس کے بعد فضا مکمل طور پر بدل گئی۔

بعد ازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں سی جے پی نے اعلان کیا کہ وہ اپنا احتجاج ختم کر رہی ہے اور جنتر منتر سمیت مختلف مقامات پر موجود طلبہ سے اپیل کی کہ وہ پرامن طور پر اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

حکومت نے اس موقع پر دو اہم یقین دہانیاں بھی کروائیں۔ حکومتی وزرا نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔

حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ نیٹ پرچہ لیک کے بعد خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو حکومتی قواعد کے مطابق زیادہ سے زیادہ مالی معاوضہ دیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق حکومت کو خدشہ تھا کہ یہ احتجاج صرف دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے۔ حکام کا خیال تھا کہ یہ تحریک شہریت ترمیمی قانون یا کسانوں کے احتجاج سے مختلف ہے کیونکہ اس کی قیادت نوجوان طلبہ کر رہے ہیں، اور حکومت مستقبل کی نسل کے ساتھ طویل محاذ آرائی نہیں چاہتی تھی۔

رپورٹس کے مطابق حکومت نے اس دوران کئی اقدامات کیے، جن میں این ٹی اے میں اصلاحات اور سماجی کارکن سونم وانگچک کو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کرنے پر آمادہ کرنا بھی شامل تھا، تاہم حکومت کو ایک طرف پارلیمنٹ میں متحد اپوزیشن اور دوسری طرف ملک بھر میں پھیلتی نوجوانوں کی تحریک کا سامنا رہا، جسے سیاسی طور پر زیادہ دیر تک برقرار رکھنا مشکل سمجھا جا رہا تھا۔

حکومت پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کو بغیر رکاوٹ چلانا چاہتی ہے، خاص طور پر حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے۔ حکومتی حلقوں کا خیال تھا کہ دھرمندر پردھان کے استعفے سے اپوزیشن کا ایک بڑا اعتراض ختم ہو جائے گا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا اس سے پارلیمنٹ کی کارروائی مکمل طور پر معمول پر آ سکے گی یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کابینہ میں ردوبدل تو کئی بار ہوئی، لیکن عوامی دباؤ کے نتیجے میں کسی وفاقی وزیر کا استعفا دینا انتہائی کم دیکھنے میں آیا ہے۔ اس سے قبل 2018 میں ایم جے اکبر نے خواتین کی جانب سے جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد #MeToo تحریک کے دوران وزارت سے استعفا دیا تھا۔

حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دھرمندر پردھان کے معاملے کی نوعیت ایم جے اکبر سے مختلف ہے کیونکہ ان پر ذاتی نوعیت کا کوئی الزام نہیں تھا۔

تاہم کچھ حکومتی شخصیات کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر استعفا ناگزیر تھا تو اسے پرچہ لیک اسکینڈل سامنے آتے ہی قبول کر لیا جاتا تو کئی ہفتوں تک جاری احتجاج، عوامی غصہ اور سیاسی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

Read Entire Article