Times of Pakistan

جنیوا میں ایران امریکا تاریخی معاہدے کی تقریب میں کیا ہوگا اور کون کون شرکت کرے گا؟

2 hours ago 1
ARTICLE AD BOX

سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جمعے کو پاکستان کی میزبانی میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ ہونے جا رہا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مستقل جنگ بندی اور مشرق وسطیٰ میں امن کا قیام ہے۔

پاکستان اور قطر کی کوششوں سے طے پانے والے اس معاہدے کا دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر خیرمقدم کیا گیا۔ ایران اور امریکا کے مابین ابتدائی معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہو گی۔

جنیوا معاہدے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ ایران کی طرف سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی دستخطی تقریب میں شرکت متوقع ہے، تاہم حتمی اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔

پاکستان کی طرف سے وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو جنیوا روانہ ہوں گے، ان کے ہمراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی جنیوا جائیں گے۔

اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت دیگر وفاقی وزرا بھی شامل ہوں گے، جو وزیراعظم کے ہمراہ جنیوا روانہ ہوں گے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا بھی آج بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کے آغاز ہو گا۔

تاہم جنیوا معاہدے سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ جب تک اسرائیلی افواج جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے لبنانی علاقوں سے واپس نہیں جاتیں جنگ کو مکمل طور پر ختم نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ معاہدے کے نفاذ کے بعد خطے میں استحکام پیدا ہوگا، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو امن عمل کو متاثر کر سکتا ہو۔

اس معاہدے کا اعلان سب سے پہلے پیر کی صبح وزیراعظم شہباز شریف نے کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے اس کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم اپنے برادر ملک پاکستان کا، نیز ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس مفاہمت تک پہنچنے کے لیے ایک اچھا ماحول پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

اگرچہ دونوں ممالک نے معاہدے کے بعض بنیادی نکات کی تصدیق کی ہے، تاہم اس کے کئی اہم پہلو تاحال غیر واضح ہیں، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور معاہدے کے طویل المدتی نفاذ کے حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

واضح رہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک پروگرام میں اعلان کیا تھا کہ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کر دیے ہیں۔ 

امریکی نائب صدر جی ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے انہوں نے اور صدر ٹرمپ نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ ایران کی طرف سے قالیباف نے دستخط کیے۔

Read Entire Article