ARTICLE AD BOX
میدان بدر کی رتیلی زمین میں پاؤں دھنستے تھے، معرکہ شروع ہونے سے پہلے بارش برسی جس سے ریت جم گئی اور اس پر چلنا آسان ہوگیا
( قسط نمبر2 ) قارئین کرام! غزوہ بدر بلا شبہ بہت اہم معرکہ تھا ۔سورۃالانفال میں اس کا مکمل ذکر ہے۔ اس سورۃ کی تفسیر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اللہ تعالی نے اس خاص صورت صورتحال کے پیش نظر فرمایا: {وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ} یعنی اللہ تعالی نے اس حال میں تمہاری مدد کی جب تم بہت کمزور اور لاچار تھے ۔اس لڑائی کے بعد مسلمانوں کی شان و شوکت میں مزید اضافہ ہو گیا، کفر ذلیل و خوار ہو گیا، وہ جو مسلمانوں کو معمولی سمجھتے تھے ان کو اندازہ ہو گیا کہ اب کفر و شرک کا جنازہ نکلنے والا ہے۔ اب ہم آپ کو ذرا سا پیچھے لیے چلتے ہیں۔ قریش کا لشکر بدر کی طرف رواں دواں ہے۔ اس کے بڑے بڑے سرداروں نے راستہ کے نان و نفقہ کی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ ایک دن نو اونٹ اور دوسرے دن دس اونٹ ذبح کیے جا رہے تھے۔ مکہ سے نکلے تو سب سے پہلے ابو جہل نے 10 اونٹ ذبح کیے۔ عسفان پہنچے تو اُمیہ بن خلف نے نو اونٹ ذبح کیے۔ قدید پہنچے تو سہیل بن عمر نے 10 اونٹ پیش کیے۔ جحفہ کے مقام پر عتبہ بن ربیعہ نے 10 اونٹ، پھر عباس بن عبدالمطلب نے 10 اونٹ، پھر ابو البختری نے بھی 10 اونٹ ذبح کیے۔ ابو جہل کو جحفہ میں ہی پیغام مل گیا تھا: واپس مکہ آجاؤ، قافلہ بخیریت مکہ کی طرف جا رہا ہے۔ اس لیے بنو زہرہ اور بنوعدی کے سرداروں نے ابو جہل سے کہا: اب ہمیں واپس چلے جانا چاہئے مگر ابو جہل نہ مانا ،اس کا کہنا تھا :ہم بدر جائیں گے ، تین دن قیام کریں گے ،اونٹ ذبح کریں گے ،لوگوں کو کھانا کھلائیں گے ۔جشن منائیں گے ،شرابیں پییں گے، عورتیں ہمارے لیے گانے گائیں گی۔ یہ دن جزیرہ نمائے عرب میں ہمیشہ یاد گار رہے گا ۔مٹھی بھر مسلمانوں پر ہمارا ایسا رعب طاری ہوگا کہ وہ کبھی ہمارا مقابلہ کرنے کی جرأت نہ کر سکیں گے ۔ ابو جہل لڑائی کرنا نہیں چاہتا تھا بلکہ اپنی شان و شوکت ظاہر کرنا اور مسلمانوں پر اپنا رعب طاری کرنا چاہتا تھا۔ اس کا غرور و تکبر حد سے بڑھا ہوا تھا۔ جب لڑائی کی فضا بن گئی ،دونوں فریق صف آرا ہو گئے تو اس وقت بھی اسے چند سرداروں نے روکا۔ حکیم بن حزام جو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے قریبی عزیز تھے، انھوں نے جنگ کو روکنے کی پوری کوشش کی۔ عتبہ بن ربیعہ جو ابو سفیان کا سسر اور ہند کا باپ تھا ،اس نے لشکر کو سمجھانے کی پوری کوشش کی ۔اللہ کے رسول ﷺ نے عتبہ کو ایک سرخ اونٹ پر دیکھ کر فرمایا تھا :اگر قوم میں کسی کے پاس خیر ہے تو وہ یہ سرخ اونٹ والا ہے۔ اگر لوگوں نے اس کی بات مان لی تو صحیح راہ پائیں گے۔ ابو جہل نے عتبہ کو بزدلی کا طعنہ دیا اور کہنے لگا :اس کا سینہ سوج گیا ہے۔ یعنی خوف اور دہشت سے اس کا سینہ پھول چکا ہے۔ ادھر قریش میں یہ باہمی اختلاف چل رہا تھا۔ ادھر مشئیت الٰہی اپنا فیصلہ کر چکی تھی: {لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍ} ’’جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے۔‘‘ بدر کے میدان میں قریش ایک ہزار اور مسلمان 313 تھے۔ گویا تین سے ایک کا مقابلہ تھا۔ اللہ تعالی مسلمانوں کو عزت و وقار دینا چاہتا تھا، اس لیے اللہ تعالی نے کفار کی تعداد کو مسلمانوں کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھایا اور کفار کی نگاہ میں بھی مسلمانوں کو تھوڑا کر کے دکھایا تا کہ وہ مقابلے پر آمادہ رہیں اور بددل ہو کر بھاگ نہ جائیں۔ اس طرح فریقین کے حوصلے بڑھ گئے اور وہ لڑائی کے لیے تیار ہو گئے ۔ اس طرح جو کام مشیئت الٰہی میں ہونا مقدر تھا اس کے اسباب پیدا ہوتے چلے گئے اور وہ بالآخر ہو کے رہا ۔کفار کو ایسی ذلت اٹھانی پڑی جو ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہ تھی اور اہل اسلام کو ایسی فتح و سرخروئی حاصل ہوئی جو ان کی توقعات سے کہیں بڑھ کر تھی۔ عبداللہ العبدلی نے زمین سے مٹی اٹھا کر کہا: یہ ریتلی ہے۔ چلتے وقت مسلمانوں کے پاؤں ریت میں دھنستے تھے، ان کے پاؤں جم نہیں رہے تھے، مگر اللہ رب العزت نے اپنا فضل فرمایا اور بارش شروع ہو گئی۔ موسم خوشگوار ہو گیا۔ ریت جم گئی، زمین سخت ہو گئی۔ پیروں کے دھنسنے کا خطرہ ٹل گیا۔ مسلمانوں نے بارش کے پانی کو حوضوں میں اکٹھا کر لیا ۔صحابہ کرام بارش میں نہاتے رہے۔ سفر کی تھکاوٹ اور تکان دور ہو گئی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ ثابت ہوا :’’اور آسمان سے تم پر بارش برسا دی تاکہ تمہیں پاک کرے اور شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست تم سے دور کر دے اور تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور تمہارے قدم جما دے۔‘‘ مسلمانوں نے ایک حوض بنا کر اس میں پانی جمع کر لیا۔ اس حوض سے نہ صرف مسلمان پانی پیتے بلکہ اللہ کے رسولﷺ نے کافروں کو بھی پانی پینے کی اجازت دی۔ مگر جو اڑیل مزاج ہو ، بدطینت اور بدخلق انسان ہو اس کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوا کرتا ہے۔ اس کی مثال لشکر قریش میں شامل اسود مخزومی ہے۔ ہمارا گائیڈ کہہ رہا تھا: اسود قریش کا ماناہوا شاہ سوار اور طاقتور آدمی تھا ۔وہ یہ کہتے ہوئے میدان میں آیا: میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ ان کے حوض کا پانی پی کر رہوں گا یا اس حوض کو منہدم کر دوں گا یا پھر اس کے لیے اپنی جان دے دوں گا۔ میں نے شیخ عبداللہ سے پوچھا: اندازاً وہ پانی کا حوض کس جگہ ہوگا ؟جواباًکہنے لگے: صحیح طور پر تو نہیں پتہ مگر غالباً عریش کے پیچھے تھا ۔اس نے اس جگہ کی نشاندہی بھی کی اور واقعی میں تصور میں اس حوض کو دیکھ رہا تھا کہ اسود آگے بڑھتا ہے اور ادھر سے سیدنا امیرحمزہ رضی اللہ عنہ اس کو روکنے کے لیے آتے ہیں۔ حوض سے ذرا پرے آپس میں مڈ بھیڑ ہو گئی۔ سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کا پاؤں نصف پنڈلی سے کٹ گیا۔ وہ پیٹھ کے بل گر پڑا۔ اس کا رخ حوض کی طرف تھا۔ اس کے پاؤں سے خون کا فوارہ نکل رہا تھا اس کے باوجود وہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر حوض کی طرف بڑھا۔وہ اپنی قسم پوری کرنا چاہتا تھا کہ سیدنا حمزہ نے اس پر دوسری ضرب لگائی تو وہ واصل جہنم ہو گیا۔ بدر کے میدان میں جس جگہ عریش تھی وہاںاب بڑی خوبصورت جامع مسجد ہے۔ اس مسجد میں کم و بیش 900 سے ایک ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے عقب میں دو رویہ سڑک ہے۔ اس کے پچھلی جانب کھنڈر ہیں۔ یہ کھنڈر کیا ہیں ان کا ذکر ہم انشاء اللہ آگے چل کر کریں گے۔ فی الحال ہم معرکہ کی جگہ کھڑے ہیں ۔اللہ کے رسولﷺ نے اپنی فوج کو اس طرح سے مرتب فرمایا کہ دشمن کو مسلمانوں کی تعداد خاصی زیادہ معلوم ہوتی تھی۔ اللہ کے رسول ﷺ نے غزوہ والی رات اللہ تعالی کی حمد و ثنا میں گزاری تھی۔ لمبے سجدے کیے اور مسلمانوں کے لیے فتح و کامیابی کی دعائیں فرمائیں۔ صف بندی نماز کی طرح تھی، تین چار صفیں کھڑی ہیں، اللہ کے رسولﷺ ان کو ہدایات سے نواز رہے ہیں کہ جب مشرکین تمہارے پاس آئیں تو ان پر تیر چلانا ،اپنے تیر بچانے کی کوشش کرنا اور جب تک دشمن تم پر چھا نہ جائیں تلوار نہ کھینچنا۔ عتبہ بن ربیعہ مکہ کا بڑا سردار تھا ۔وہ اس شان سے میدان میں اترا کہ اس کا بیٹا ولید اور بھائی شیبہ اس کے دائیں بائیں تھے۔ اس نے عرب کے دستور کے مطابق آواز دی :کون ہے جو ہمارا مقابلہ کرے؟ اس کے جواب میں تین انصاری صحابی نکلے۔ ان میں دو سگے بھائی عوف بن حارث اور معوذ بن حارث تھے۔ یہ سیدہ عفراء بنت عبید کے بیٹے تھے اور ان کے ساتھ عبداللہ بن رواحہ تھے۔ عتبہ نے سوال کیا :تم لوگ کون ہو؟ اپنا تعارف تو کراؤ۔ جب اسے معلوم ہوا کہ یہ انصاری ہیں تو اس نے کہا، دیکھو ہمارا تمہارا کوئی جھگڑا نہیں۔ ہم اپنی قوم کے افراد سے لڑنے کے لیے آئے ہیں۔ پھر اس نے اونچی آواز میں کہا: محمدﷺ ہماری قوم میں سے ہماری برابری اور ٹکر کے لوگوں کو لڑنے کے لیے بھیجو۔ اللہ کے رسولﷺ نے انصار کو واپس بلایا اور ارشاد فرمایا: علی بن ابی طالبؓ، حمزہ بن عبدالمطلبؓ اور عبیدہ بن حارث بن مطلبؓ تم لوگ مقابلہ میں جاؤ ۔(یاد رہے مطلب نبی ﷺ کے دادا عبدالمطلب کے چچا تھے) عتبہ نے ان کو دیکھا اور پوچھا: تم لوگ کون ہو؟ انہوں نے جب تعارف کرایا تو کہنے لگا: اب مزا آئے گا ،تم معزز اور ہم پلہ مد مقابل ہو۔ عتبہ کے مقابلہ میں سید نا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ شیبہ کے مقابلہ میں سید نا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ولید بن عتبہ کے مقابلہ میں سید نا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مقابلہ کرنے کے لیے سامنے کھڑے ہیں ۔ دونوں لشکروں کی نگاہیں ان بہادروں پر ٹکی ہوئی ہیں۔ جب مقابلہ شروع ہوا تو چشم فلک نے دیکھا کہ تینوں کافر قریشی زمین پر مقتول پڑے ہیں ۔عتبہ کو قتل کرنے کے لیے سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ کی ان کے بھائیوں نے مدد کی۔ وہ خود بھی زخمی ہو گئے اور بعد میں مقام شہادت سے سرفراز بھی ہوئے۔ قارین کرام! غزوہ بدر اپنے اندر کتنے ہی اسباق لیے ہوئے ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ اپنے رب کو کثرت سے پکار رہے ہیں ۔اپنی امت کو سبق دے رہے ہیں کہ اگر کبھی کوئی مشکل وقت آئے تو صرف اللہ سے مدد مانگیں۔ ذرا ان الفاظ پر غور تو کریں جو اللہ کے رسول ﷺعریش ( چھپر ) میں اپنے رب کے سامنے بار بار دہرا رہے ہیں:’’ اے اللہ! تو نے مجھ سے مدد کا جو وعدہ کیا اسے آج اس میدان میں پورا فرما دے۔ اے اللہ! میں تیرے عہد اور وعدہ کے ایفا کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘ جب گھمسان کی جنگ شروع ہوئی ،نہایت زور کا رن پڑا تو پھر اللہ کے رسولﷺ نے یہ دعا مانگی:’’ اے اللہ! اگر آج یہ گروہ ہلاک ہو گیا تو زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘ اللہ کے رسولﷺ اتنے انہماک سے دعا فرما رہے ہیں کہ دعا مانگتے مانگتے آپ کے مبارک کندھوں سے چادر گر گئی۔ سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ کی چادر درست کی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اب بس کیجئے۔ آپ نے اپنے رب سے بڑے الحاح واصرار کے ساتھ دعا مانگ لی۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اللہ تعالی اپنے وعدے کو ضرور پورا فرمائے گا۔ سبحان اللہ! ادھر اللہ تعالی سے دعا ہو رہی ہے، التجا کی جا رہی ہے، ادھر ان دعاؤں کی تاثیر کا عالم یہ ہے کہ ارشاد ہوتا ہے: {اَنِّیْ مُمَدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ}’’ میں ایک ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا جو آگے پیچھے آئیں گے‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کے دلوں میں ان کا رعب ڈال دیا ۔ادھر فرشتوں کو بھی حکم دیا جا رہا ہے :میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم اہل ایمان کے قدم جماؤ، میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا ۔مشرکین مکہ کے لیے ان کے تین بڑے سرداروں کا قتل بہت بڑا دھچکا تھا، مگر ابو جہل کی خباثت و بد مزاجی میں اب تک کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔اس نے اپنی فوج کو للکارا ،مسلمانوں پر حملہ کے لیے ابھارا اور کہنے لگا: دیکھنا عتبہ، شیبہ اور ولید کے انجام پر بالکل نہ جانا۔ انہوں نے ذرا جلد بازی سے کام لیا اور مارے گئے۔ پھر غیض و غضب سے بے قابو ہو کر یک دم حملے کا حکم دے دیا۔ اللہ کے رسولﷺ دعائیں مانگ رہے ہیں۔ مسلمان فوجی بھی اللہ کے حضور میں نہایت اخلاص سے دعائیںکر رہے ہیں اور اپنی جگہوں پر جمے ہوئے ہیں۔ (جاری ہے)
.png)
1 day ago
2






English (US) ·