Times of Pakistan

جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ: پاکستان

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا دوٹوک مؤقف: بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے۔

شائع 24 جولائ 2026 09:46am

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے مسئلہ جموں و کشمیر، انسانی حقوق، سندھ طاس معاہدے اور خطے کی سلامتی سے متعلق بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ وہ خود بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایہ ممالک کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی جیسے اقدامات کا مرتکب رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق موجود ہے۔ ان کے مطابق ایک جانب سیاسی آزادی اور بنیادی حقوق کا ماحول ہے، جبکہ دوسری جانب مقبوضہ جموں و کشمیر میں جبر، گرفتاریوں، اظہارِ رائے پر پابندیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی کو ایک جیسا قرار نہیں دیا جا سکتا۔

صائمہ سلیم نے زور دے کر کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، جبکہ بھارت کا یکطرفہ مؤقف اس تنازع کی بین الاقوامی اور قانونی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت خود مسئلہ جموں و کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر گیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں اور اپنے بین الاقوامی وعدوں سے انحراف کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت دینے کے بجائے ان پر مزید پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

پاکستانی قونصلر نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارت کے اقدامات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں انسانوں کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگ یا سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

صائمہ سلیم نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک اپنی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیلا چکے ہیں، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں، کو امتیازی سلوک اور مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرے۔

Read Entire Article