Times of Pakistan

جرمنی: ہم جنس پرستوں کی ریلی پر گاڑی چڑھانے والا شخص ہلاک، کس ملک کا باشندہ تھا؟

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

ملزم پہلے بھی پولیس کو مطلوب تھا اور وہ شدت پسند حلقوں سے وابستہ سمجھا جاتا تھا: اے پی رپورٹ

شائع 27 جولائ 2026 09:53am

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ہم جنس پرستوں کی ریلی کے دوران اُن پر گاڑی چڑھا دینے والے حملہ آور کو پولیس نے تلاش کرنے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ برلن کے ٹیئرگارٹن پارک میں گزشتہ روز ایک تیز رفتار وین ہجوم پر چڑھا دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 29 زخمی ہوگئے تھے۔ تاہم جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اب کسی بھی زخمی کی جان کو فوری خطرہ نہیں رہا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق جرمن حکام نے اس واقعے کو شدت پسندانہ دہشت گردی قرار دیا ہے۔ یہ حملہ ہفتے کی رات برلن کے وسط میں واقع ٹیئرگارٹن پارک کے قریب اس وقت ہوا جب ہزاروں افراد پرائیڈ تقریبات میں شریک تھے۔

پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے پہلے ایک وین ہجوم پر چڑھا دی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے، اور اس کے بعد اس نے ایک بڑے دھار دار ہتھیار سے کئی افراد پر حملہ کیا۔ حملے کے بعد ملزم موقع سے فرار ہوگیا جبکہ اس کی گاڑی بعد میں ایک درخت سے ٹکرائی ہوئی حالت میں ملی۔

حکام نے حملے کے فوراً بعد شہر بھر میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا۔ پولیس نے ملزم کی شناخت 21 سالہ عبدل بی کے نام سے کی، جو لبنانی نژاد جرمن شہری تھا اور 2005 میں جرمنی میں پیدا ہوا تھا۔ پولیس نے اس کی تصاویر جاری کرتے ہوئے عوام سے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جرمن پراسیکیوٹرز نے بتایا کہ عبدل بی پہلے بھی پولیس کی نظر میں تھا اور وہ شدت پسند حلقوں سے وابستہ سمجھا جاتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق وہ 2025 میں لبنان گیا تھا جہاں سے شام پہنچ کر شدت پسند تنظیم میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم لبنان میں گرفتار ہونے کے بعد اسے مذہبی اور فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے سمیت دیگر الزامات پر تین ماہ قید کی سزا ہوئی تھی۔

اے پی کے مطابق جرمنی واپسی پر برلن کی ایک عدالت نے اسے سنگین پرتشدد کارروائی کی تیاری اور شدت پسند تنظیم کا پروپیگنڈا شائع کرنے کے جرم میں ایک سال دس ماہ کی معطل سزا سنائی تھی، جبکہ اپیل کے دوران اسے رہا کر دیا گیا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ اتوار کی شام تقریباً چھ بجے اسپینڈاؤ ضلع میں واقع ایک گارڈن کمپلیکس میں ملزم کا سراغ ملا۔

حکام کے مطابق جب پولیس اہلکار اس کے قریب پہنچے تو اس نے دھار دار ہتھیار کے ساتھ ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جس پر برلن کی خصوصی پولیس یونٹ نے فائرنگ کی۔

برلن پولیس کے مطابق طبی عملے نے موقع پر ہی اس کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگیا۔

حملے کے عینی شاہد نے بتایا کہ اچانک ایک زور دار آواز سنائی دی، اس کے بعد چند اور آوازیں آئیں۔ ابتدا میں ہمیں سمجھ نہیں آیا کہ چیخیں کیوں سنائی دے رہی ہیں کیونکہ ہر طرف موسیقی، جشن اور شور تھا۔ بعد میں جب پولیس نے پارک خالی کرایا اور ہمیں گھروں کو جانے کا کہا تو اندازہ ہوا کہ اصل میں کیا ہوا ہے۔

حملے کے بعد پولیس نے سوشل میڈیا پر لوگوں سے فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کی اپیل کی تاکہ ایمبولینسوں اور ریسکیو ٹیموں کو متاثرین تک پہنچنے میں آسانی ہو۔

جرمن وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دہشت گرد حملہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ حملہ آور نے پہلے گاڑی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور پھر ایک بڑے دھار دار ہتھیار سے مزید افراد پر حملہ کیا۔

جرمن چانسلر فریڈرش مرز نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ”انتہائی گھناؤنا فعل“ اور ”جرمن معاشرے پر حملہ“ قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس واقعے کے نتائج پر غور کریں گے، ہم اپنی آزادی کا دفاع کریں گے۔

جرمن چانسلر فریڈرش کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر سے آئے لاکھوں افراد امن کے ساتھ تقریب منا رہے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی اور برداشت سے پیش آئیں۔ ہم ایک آزاد معاشرہ ہیں اور اپنی آزادی کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے۔ چانسلر نے یقین دلایا کہ اس حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین کارروائی ہوگی۔

برلن کے میئر کائی ویگنر کا کہنا تھا کہ ایک پُرامن اور خوشگوار پرائیڈ پریڈ کے بعد برداشت اور امن کے پیغام پر مبنی اجتماع کو انتہائی سفاکانہ انداز میں نشانہ بنایا گیا۔ برلن آزادی کا شہر ہے اور آج ہماری آزادی پر انتہائی ہولناک حملہ کیا گیا۔ میری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔

Read Entire Article