ARTICLE AD BOX
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم 45 سالہ ترک نژاد جرمن شہری ہے جو شہر ہینوور کا رہائشی بتایا جاتا ہے
جرمنی کے شمالی شہر اسٹیڈ میں واقع ماؤں اور بچوں کی فلاحی سہولت کے مرکز میں پیش آنے والے فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں 6 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ جرمن حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واقعہ ایک خاندانی تنازع، خصوصاً بچے کی تحویل کے معاملے سے متعلق تھا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ پیر کی دوپہر مقامی وقت کے مطابق تقریباً 12 بج کر 10 منٹ پر پیش آیا۔ حملہ آور نے مرکز کے اندر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں چار خواتین اور دو مرد جان کی بازی ہار گئے۔ زخمی ہونے والے متعدد افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ایک زخمی بعد ازاں دم توڑ گیا۔ حکام نے بتایا کہ جس وقت فائرنگ ہوئی، حملہ آور کی تین ماہ کی بیٹی اور اس کی والدہ بھی مرکز میں موجود تھیں، تاہم دونوں محفوظ رہیں اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم 45 سالہ ترک نژاد جرمن شہری ہے، جو شہر ہینوور کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کی تحویل سے متعلق ملاقات کے لیے مرکز آیا تھا۔ تحقیقات کے مطابق ملزم پہلے بھی دھمکی آمیز رویے کے باعث پولیس کے ریکارڈ میں موجود تھا، تاہم اسے انتہائی پرتشدد شخص قرار نہیں دیا گیا تھا اور اس کے پاس اسلحہ رکھنے کا لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔ فائرنگ کے بعد ملزم ایک خاتون کے ساتھ گاڑی میں فرار ہوگیا تاہم پولیس نے تعاقب کے بعد گاڑی کو روک کر تین افراد کو حراست میں لے لیا، جن میں مرکزی ملزم بھی شامل ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس وقت عوام کو کسی مزید خطرے کا سامنا نہیں ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر فرانزک ماہرین نے شواہد اکٹھے کیے جبکہ قریبی اسکول اور ڈے کیئر سینٹر میں موجود بچوں کو احتیاطی طور پر والدین کے حوالے کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ اسٹیڈ تقریباً 50 ہزار آبادی پر مشتمل جرمن شہر ہے، جو ہیمبرگ سے تقریباً 30 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس افسوسناک واقعے نے پورے جرمنی میں غم اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
.png)
9 hours ago
1






English (US) ·