ARTICLE AD BOX
کابینہ کمیٹی نے توانائی مارکیٹ کی نگرانی تیز کرنے اور سپلائی کے تسلسل کے لیے روزانہ اسٹاک جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
شائع 02 مارچ 2026 08:51pm
خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا، جس پر حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی سخت کر دی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت کمیٹی نے روزانہ اسٹاک اور قیمتوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ عوام کو توانائی سپلائی محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کردہ پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی کمیٹی کا پہلا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
اعلیٰ سطحی کابینہ کمیٹی نے توانائی مارکیٹ کی نگرانی مزید مؤثر بنانے اور سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے روزانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق اجلاس میں کمیٹی کے دائرہ اختیار سے متعلق تمام امور کا جامع جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ملک کی توانائی سپلائی چین مکمل طور پر مستحکم ہے۔ تاہم آبنائے ہرمز اوربابِ المندب کی صورت حال کو عالمی توانائی رسد کے لیے بڑا چیلنج قرار دیا گیا۔
حکام نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی طویل ہوئی تو پاکستان کی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اسی تناظر میں کمیٹی نے روزانہ اجلاس منعقد کرنے اور اسٹاک و قیمتوں کا ریئل ٹائم جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی سپلائی، شپمنٹس اور ٹرمینل آپریشنز کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ باہمی ہم آہنگی تیز کی جائے اور ذخائر کی درست تصدیق یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قیمتوں کے اثرات شفاف اور منظم طریقے سے عوام تک منتقل کیے جائیں گے اور توانائی سپلائی محفوظ ہے، لہٰذا عوام پریشان نہ ہوں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورت حال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
.png)
1 week ago
6




English (US) ·