ARTICLE AD BOX
شائع 01 اپريل 2026 08:57am
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت تبدیل کرنا نہیں تھا اور امریکی افواج اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران سے نکل جائیں گی۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس انخلا سے پہلے دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑے سمجھوتے یا ڈیل کا قوی امکان ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر تہران مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہوگی، لیکن اگر وہ مذاکرات کے لیے نہیں بھی آتے تب بھی امریکا ایران سے نکل جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی موجودہ نئی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں سمجھدار قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ امریکا نے اس جنگ میں اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جس کے بعد ایران اگلے پندرہ سال تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں رہے گا۔
صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی برادری بالخصوص فرانس جیسے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو تیل یا گیس کی ضرورت ہے تو وہ خود آبنائے ہرمز جائے یا امریکا سے تیل خریدے، اب ان کے جہازوں کی حفاظت کرنا امریکا کی ذمہ داری نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی جنگ بندی کے حوالے سے ایک اہم بیان جاری کیا ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے لیے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے دوبارہ حملہ نہ کرنے کی مستند اور تحریری ضمانت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران ہی امریکا نے دو مرتبہ حملے کیے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ سفارت کاری پر مکمل یقین نہیں رکھتے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب صرف عارضی طور پر ہتھیار ڈالنے یا سیز فائر کا وقت نہیں بلکہ جنگ کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دوبارہ حملے نہ ہونے کی ضمانت کے ساتھ ساتھ جنگ کے دوران ایران کو ہونے والے مالی اور جانی نقصانات کا ازالہ بھی کیا جانا چاہیے۔
.png)
4 weeks ago
5





English (US) ·