ARTICLE AD BOX
شائع 13 مارچ 2026 11:20pm
تہران میں یومِ القدس کے موقع پر منعقد ہونے والی ریلی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی اور حکومتی قیادت نے شرکت کی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعہ کے روز دارالحکومت تہران میں ہزاروں افراد فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ اس موقع پر ایرانی صدر سمیت حکومت اور سیاسی قیادت سے تعلق رکھنے والی دیگر شخصیات بھی عوام کے ہمراہ مارچ میں شریک ہوئیں۔
تہران میں یومِ القدس کے موقع پر جمعہ کے روز ہونے والی ریلی میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شرکت کی، اس موقع پر ہزاروں افراد فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سڑکوں پر نکلے۔
صدر کے استقبال کے دوران شرکاء نے پُرجوش نعروں اور بینرز کے ذریعے خوش آمدید کہا، جبکہ نوجوانوں اور خاندانوں کی بڑی تعداد نے فلسطینی عوام کے حق میں مظاہرہ کیا۔ ریلی میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور اعلیٰ عدلیہ کے حکام بھی موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق ریلی کے دوران تہران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور کم از کم ایک خاتون ہلاک ہوئی جب ایک دھماکہ مظاہرین کے قریب ہوا۔ ایران کی ریاستی میڈیا نے بتایا کہ مظاہرین نے بینرز اور جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جن پر “امریکا مردہ باد” اور “اسرائیل مردہ باد” کے نعرے درج تھے۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے ریلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے خوف اور مایوسی کی علامت ہیں اور دشمن ناکام رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط ملک مظاہروں پر حملہ نہیں کرتا۔
ایران کے وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے اعلان کیا کہ ایران کی مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کو ایک ناقابل فراموش سبق سکھائیں گی۔ ریاستی ٹی وی نے بعد ازاں رپورٹ دی کہ ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل حملے کیے ہیں۔
تہران میں یومِ القدس کی یہ ریلی کشیدہ حالات کے باوجود جاری رہی، اور عوام کی بڑی تعداد نے دھماکوں کے باوجود مظاہرے میں شرکت جاری رکھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ عوام فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے متحد ہیں۔
.png)
4 hours ago
1





English (US) ·