ARTICLE AD BOX
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور خوشحالی پر زور دیا۔
شائع 21 مارچ 2026 10:16pm
بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ میں ”امن، استحکام اور خوشحالی‘‘ پر زور دیا۔ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے موقع پر ہوئی، جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ 22 ویں دن میں داخل ہو چکی ہے۔
پیر کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے خطے میں اہم انفراسٹرکچر پر حملوں کی مذمت کی ہے، ایسے حملے علاقائی استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتے ہیں۔
بھارتی وزیراعظم نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کا ذکر کرتے ہوئے ’’سمندری راستوں کے تحفظ اور بحری گزرگاہوں کو کھلا اور محفوظ رکھنے کی اہمیت‘‘ پر زور دیا۔
ایران نے اس اہم سمندری گزرگاہ کو عملی طور پر بند کر رکھا ہے، جس کے باعث سینکڑوں تیل اور گیس بردار جہاز پھنسے ہوئے ہیں جب کہ بھارت اپنی توانائی ضروریات کے لیے اس راستے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔
تقریباً ایک تہائی خام تیل اور دو تہائی ایل این جی یا مائع قدرتی گیس اسی راستے سے بھارت پہنچتی ہے۔ اس صورت حال کے باعث بھارت اب متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مصروف ہے۔
بھارتی بحریہ آبنائے ہرمز میں پھنسے بھارتی پرچم بردار جہازوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے حفاظتی حصار فراہم کر رہی ہے تاہم یہ عمل ایران کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی ممکن ہو رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں کی گفتگو کے دوران نریندر مودی نے ایرانی صدر کوعید الفطر کی مبارک باد بھی دی، جو مسلمانوں کے لیے رمضان المبارک کے اختتام کی علامت ہے۔ یہ رابطہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے اور عالمی توانائی سپلائی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
.png)
2 hours ago
2






English (US) ·