Times of Pakistan

بھارت میں جین زی کی نئی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے؟

9 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

بھارتی چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق متنازع بیان سے شروع ہونے والی مذاقیہ تحریک اب سنجیدہ تحریک میں تبدیل ہوچکی ہے۔

بھارت میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد سوشل میڈیا پر شروع ہونے والی ایک طنزیہ سیاسی مہم غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی اس آن لائن مہم کو چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد نے فالو کیا جب کہ ہزاروں نوجوان اس میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

بھارت میں تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے طنزیہ سیاسی مہم تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ یہ مہم 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک سماعت کے دوران چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس کے ردعمل میں شروع ہوئی تھی۔

بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے جمعے کے روز عدالتی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے مخصوص طبقے کو کاکروچ (لال بیگ) سے تشبیہ دی تھی۔ بھارتی چیف جسٹس کے الفاظ تھے کہ ’وہ نوجوان جنہیں کوئی روزگار نہیں ملتا، وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ بن جاتے ہیں اور پھر ہر ایک پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں، یہ معاشرے کے کاکروچ ہیں‘۔

بعد ازاں انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے بعض افراد کی طرف تھا اور ان کا مقصد بھارتی نوجوانوں کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔

تاہم اس بیان کے بعد شدید ردعمل سامنے آیا اور یہ طنزیہ مہم سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی جو کہ اب ایک بڑی آن لائن سیاسی مہم کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ صرف 3 سے 4 روز کے دوران اس مہم نے بھارت کی ’جین زی‘ کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے اور لاکھوں افراد اس کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس تحریک کا آغاز 16 مئی کو سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ابھیجیت دیپکے نے ایک مذاقیہ سوشل میڈیا پوسٹ سے کیا تھا۔ انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیسا رہے گا؟‘۔

اس کے بعد انہوں نے باقاعدہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی ایک ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پیجز لانچ کر دیے اور اس پلیٹ فارم کو ’سست اور بے روزگار لوگوں کی آواز‘ قرار دیا اور ساتھ ہی ایک گوگل فارم کے ذریعے لوگوں کو اس میں شامل ہونے کی بھی دعوت دی۔

حیران کن طور پر صرف 72 گھنٹوں کے اندر اس پلیٹ فارم کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لاکھوں فالوورز آ گئے اور 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد نوجوانوں نے گوگل فارم کے ذریعے اس کی آن لائن رکنیت فارم بھی بھر دیے۔ انسٹاگرام پر اس کے فالوورز کی تعداد اب 3 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ سیاسی شخصیات، یہاں تک کہ ممبران اسمبلی بھی اس تحریک میں شامل ہورہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مہم کے وائرل ہونے کی ایک بڑی وجہ اس کا نام ہے، جو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے نام پر طنزیہ انداز میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا ہے، جس نے اسے مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق فی الحال تو یہ سوشل میڈیا کی حد تک ایک طنزیہ تحریک ہے لیکن اس کے پیچھے بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بیروزگاری، امتحانات کے پیپرز لیک ہونے کے اسکینڈلز اور دیگر مسائل کے حوالے سے گہرا غصہ چھپا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس پلیٹ فارم نے اب عام مسائل پر بھی آواز اٹھانا شروع کردی ہے اور 5 نکاتی منشور بھی جاری کیا ہے، جس میں ججوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کسی بھی قسم کے سیاسی یا سرکاری عہدے دینے پر پابندی، امتحانی نظام میں کرپشن پر احتساب، پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے 50 فیصد کوٹہ، سوشل میڈیا پر آزادی اظہارِ رائے اور ’ہارس ٹریڈنگ‘ کا حصہ بننے والے سیاسی رہنماؤں پر 20 سال کی پابندی جیسے مطالبات شامل ہیں۔

اس تحریک کو اس قدر تیزی سے مقبولیت ملنے کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگے کہ آیا یہ نیپال اور بنگلہ دیش کی طرز پر جین زی کی انقلابی تحریک کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔

اس پر تحریک کے بانی ابھیجیت دیپکے نے واضح کیا کہ بھارت کے نوجوان سیاسی طور پر باشعور اور حکومت میں موجود بیشتر افراد سے زیادہ قابل ہیں۔ وہ اپنے آئینی حقوق کو سمجھتے ہیں اور پرامن اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اختلاف کے حق کو استعمال کریں گے۔

Read Entire Article