ARTICLE AD BOX
یورپ کی سیر اور وہاں قیام کا شوق رکھنے والے بہت سے مسافر آج کل ایک ایسی تکنیک استعمال کر رہے ہیں جسے ’شینگن شفل‘ کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار دراصل ان قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے یورپ میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا نام ہے جو غیر ملکیوں کو ہر 180 دنوں میں زیادہ سے زیادہ 90 دن شینگن زون میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس وقت شینگن ایریا میں 29 ممالک شامل ہیں جن کی سرحدوں پر پاسپورٹ کی جانچ پڑتال نہیں ہوتی، لیکن وہاں قیام کی مدت پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔
کرسٹینا اور ایرک شینڈ مین نامی ایک امریکی ریٹائرڈ جوڑے کی کہانی اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ اٹلی میں رہنا چاہتے ہیں لیکن ویزا کی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے وہ سال کے کچھ مہینے اٹلی میں گزارتے ہیں اور جب ان کے 90 دن پورے ہونے لگتے ہیں تو وہ برطانیہ، مونٹینیگرو، بوسنیا، سربیا، ترکیہ اور اردن جیسے غیر شینگن ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔
کرسٹینا کا کہنا ہے کہ ہم نے دو سال بعد اپنے ریذیڈنسی پرمٹ کی تجدید کرانے کے بجائے اٹلی اور باقی دنیا کے درمیان شففل کرنے کو ترجیح دی، ہم اٹلی سے محبت کرتے ہیں لیکن ہم سال کا زیادہ تر حصہ سفر میں گزارنا چاہتے تھے۔
شینگن شفل کرنے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ کچھ لوگ اسے دنیا گھومنے کے شوق میں اپنا رہے ہیں جبکہ کچھ امیگریشن کے پیچیدہ نظام اور طویل مدتی ویزا کے حصول میں دشواری کی وجہ سے اس پر مجبور ہیں۔
اس طریقے کو اپنانے والوں کے لیے سوشل میڈیا پر کئی گروپ بن چکے ہیں جہاں ہزاروں ممبران ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں اور سستی رہائش تلاش کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
تاہم، یہ طریقہ کار اتنا آسان بھی نہیں ہے۔ اس میں دنوں کا حساب کتاب بہت احتیاط سے کرنا پڑتا ہے کیونکہ ایک دن کی بھی غلطی ہزاروں ڈالر جرمانے اور پانچ سال تک یورپ میں داخلے پر پابندی کا باعث بن سکتی ہے۔ مسافر اس کے لیے مختلف موبائل ایپس اور کیلکولیٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔
.png)
17 hours ago
4




English (US) ·