ARTICLE AD BOX
پانچ جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 88 خوارج دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے.
شائع 11 جولائ 2026 11:21am
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے خلاف ایک بار پھر انتہائی موثر کارروائی کی ہے. اس تازہ ترین کارروائی کے دوران مزید نو خوارج کو ہلاک کر دیا گیا ہے.
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہاڑوں میں چھپے ہوئے ان دہشتگردوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے زمین پر موجود دستوں کے ساتھ ساتھ ہوا سے بھی کارروائی کی گئی ہے، یعنی ہیلی کاپٹرز اور فضائیہ کی مدد سے ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے.
پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور بلوچستان پولیس نے مل کر صوبے کے مشکل اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں امن دشمن عناصر کے خلاف ایک بہت بڑا اور مربوط مشترکہ آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا نام ’آپریشن شعبان‘ رکھا گیا ہے.
اس بڑے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ آپریشن شعبان میں اب تک ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی مجموعی تعداد 52 ہو چکی ہے.
اس کے ساتھ ساتھ اگر پانچ جولائی سے لے کر اب تک کی تمام سیکیورٹی کارروائیوں کو دیکھا جائے تو مجموعی طور پر 88 خوارج دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں.
سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ جب تک بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشتگرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، تب تک یہ آپریشن شعبان اسی طرح پوری طاقت سے جاری رہے گا.
اگر اس پورے آپریشن کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کارروائی جولائی 2026ء کے بالکل آغاز میں بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد شروع کی گئی تھی.
وہاں واقع مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس میں نو بہادر پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے.
اس حملے کے فوراً بعد حکومت اور سیکیورٹی اداروں نے امن دشمنوں کے پورے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا.
اسی فیصلے کے تحت پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس نے مل کر یہ مشترکہ محاذ سنبھالا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کا مکمل صفایا کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانا اور امن قائم کرنا ہے.
.png)
1 hour ago
1





English (US) ·