Times of Pakistan

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے استعفا دے دیا

1 week ago 6
ARTICLE AD BOX

اگر کیئر اسٹارمر استعفیٰ سامنے آتا ہے تو لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخاب کے لیے باقاعدہ ٹائم فریم کا بھی اعلان کیا جائے گا: رپورٹ

اپ ڈیٹ 22 جون 2026 01:49pm

برطانیہ کی سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے وزارتِ عظمیٰ سے مستعفی ہونےکا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

کیئر اسٹارمر نے میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اپنے ملک کے عوام کو بتایا کہ انہوں نے آج صبح ہی برطانوی بادشاہ کو اپنے اس فیصلے اور استعفے کے بارے میں آگاہ کر دیا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، سر کیئر اسٹارمر کو پچھلے کچھ عرصے سے اپنی ہی سیاسی جماعت، لیبر پارٹی کے اندر سے شدید دباؤ کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے حکومت چھوڑنے کا یہ بڑا فیصلہ کیا۔

اپنے الوداعی بیان میں کیئر اسٹارمر نے اپنی دو سالہ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کیا اور ملک کے حالات پر کھل کر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ جب دو سال پہلے میں نے یہ منصب سنبھالا تھا تو میں ملک کی خدمت کے لیے انتہائی پرجوش تھا اور اس پورے عرصے میں برطانوی عوام کی فلاح و بہبود اور ان کی بہتری ہی میری سب سے بڑی ترجیح رہی ہے۔

انہوں نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ مجھے بار بار اپنی ہی پارٹی کے اندر سے یہ بتایا گیا کہ ہماری سیاسی جماعت اب کمزور ہو کر ختم ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود میں نے دو سال کے اندر ملکی معیشت اور پیسے کے نظام کو مضبوط کیا۔

کیئر اسٹارمر نے عوام کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آتیں بلکہ ان کے لیے اچھا خاصا وقت درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہوں نے اپنے دور میں باہر کے دوست ملکوں اور اتحادیوں کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنایا ہے اور وہ نئے آنے والے وزیراعظم کی مکمل حمایت اور ان کے ساتھ پورا تعاون کریں گے۔

برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر لندن میں اپنے استعفے کا اعلان کر رہے ہیں (تصویر: رائٹرز)

وزیراعظم کے استعفے کے بعد اب برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گئی ہے۔

برطانوی اخبار دی گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق، موجودہ سیاسی صورت حال میں اینڈی برنہم ملک کے نئے وزیراعظم بننے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں اور انہیں پارلیمنٹ کے تقریباً تین سو ارکان کی بڑی حمایت حاصل ہے، جس کی وجہ سے ان کے اگلا وزیراعظم بننے کے امکانات بہت زیادہ روشن دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری طرف ایک اور برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اگر اینڈی برنہم ملک کے نئے وزیراعظم منتخب ہو جاتے ہیں، تو موجودہ وزیرِ انصاف شبانہ محمود نئی حکومت اور کابینہ میں بھی اپنی پرانی ذمہ داریاں برقرار رکھ سکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، شبانہ محمود ملک میں باہر سے آنے والے لوگوں یعنی امیگریشن کے نظام میں بڑی اصلاحات لانے کی خواہشمند ہیں اور ان کی سب سے بڑی ترجیح غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کے خلاف قوانین کو مزید سخت بنانا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی آنے والی نئی حکومت میں شہریت حاصل کرنے کے طریقوں اور امیگریشن کی پالیسی کو پہلے سے زیادہ سخت کیے جانے کا پورا امکان ہے، تاہم ان تمام امور پر حتمی اور پکے فیصلے نئی قیادت کے باقاعدہ انتخاب کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔

Read Entire Article