Times of Pakistan

بجٹ 27-2026: تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

پاکستان کا مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس میں تنخواہ دار طبقے اور پنشنرز کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان ہے۔

بجٹ کا کل حجم 175 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں بجٹ دستاویزات کی باقاعدہ منظوری لی جائے گی۔

اس موقع پر وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کے ارکان کو بجٹ کے خدوخال پر تفصیلی بریفنگ دیں گے اور بعد ازاں سہ پہر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کریں گے۔

قومی اسمبلی کے بعد یہ تجاویز شام کو ہونے والے سینیٹ کے اجلاس میں بھی ارکان کے سامنے رکھی جائیں گی۔

نئے بجٹ میں ملک کے تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑی خوشخبریاں شامل ہیں کیونکہ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا قوی امکان ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں بھی چھوٹ دی جا رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی عوام کے لیے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ اسٹیشنری اور سولر پلیٹس مہنگی ہونے کا خطرہ بھی ٹل گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً ساٹھ ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دینے اور انکم ٹیکس سلیب کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کرنے کی تجاویز ہیں۔

خاص طور پر ایسے ملازمین جن کی ماہانہ آمدن 1 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ہے، ان کے لیے ایک خصوصی ریلیف پیکج زیرِ غور ہے۔

اس کے علاوہ، بیروزگاری کے خاتمے کے لیے نئے مالی سال کے دوران ملک میں 20 لاکھ نئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

بجٹ کے معاشی اہداف اور ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے قومی اقتصادی کونسل نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے بجٹ کی منظوری پہلے ہی دے دی ہے۔

نئے مالی سال کے لیے معاشی ترقی کا مجموعی ہدف چار سے چار اعشاریہ ایک فیصد کے درمیان متوقع ہے، جبکہ مہنگائی یعنی افراطِ زر کا تخمینہ آٹھ اعشاریہ دو سے آٹھ اعشاریہ چار فیصد کے درمیان لگایا گیا ہے۔

شعبہ وار ترقی کے اہداف میں صنعت کے لیے چار فیصد، زراعت کے لیے تین اعشاریہ چھ فیصد اور خدمات یعنی سروسز کے شعبے کے لیے چار اعشاریہ دو فیصد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں سترہ کھرب ستائیس ارب روپے اکٹھے کرنے کا ہدف طے کیا ہے۔

مالیاتی امور اور تجارتی توازن کے حوالے سے نئے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے تقریباً تیس کھرب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولیوں کا مجموعی ہدف ایک سو باون کھرب سڑسٹھ ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

عالمی تجارت کی بات کی جائے تو ملک کی برآمدات کا ہدف بتیس ارب اسی کروڑ ڈالر، جبکہ درآمدات کا تخمینہ ستر ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس کے بعد مجموعی تجارتی خسارہ سینتیس ارب ڈالر رہنے کا اندازہ ہے۔

وفاقی بجٹ میں ایک بڑا حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگیوں کی نذر ہوگا، جس کے تحت قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے اٹہتر کھرب چوبیس ارب روپے کی خطیر رقم مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

Read Entire Article