ARTICLE AD BOX
چین کا دورہ ختم ہونے کے بعد ایلون مسک کی جانب سے چین کی ترقی کی جھلکیاں شیئر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے
امریکی بزنس وفد کے ہمراہ بیجنگ پہنچنے والے ایلون مسک چین کے ترقیاتی رنگ دیکھ کر دنگ رہ گئے تھے، اور اب دورہ ختم ہونے کے بعد ان کی جانب سے چین کی ترقی کی جھلکیاں شیئر کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک بیجنگ میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی سفارتی سربراہی اجلاس کے دوران روایتی سفارتی آداب کو بھول کر ایک عام سیاح کی طرح ویڈیوز بناتے ہوئے پائے گئے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔
14 مئی 2026 کو گریٹ ہال آف دی پیپل میں منعقدہ سرکاری استقبالیہ تقریب کے دوران جہاں دنیا بھر کے نامور رہنما اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ حکام انتہائی سنجیدگی اور احترام کے ساتھ کھڑے تھے، وہیں ایلون مسک نے اپنا اسمارٹ فون نکالا اور ہال کا پورا نظارہ قید کرنے کے لیے دائرے کی شکل میں گھوم کر 360 ڈگری کی ویڈیو بنانا شروع کر دی۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس لمحے کا خوب مذاق بھی اڑایا گیا اور اسے پسند بھی کیا گیا۔
کئی صارفین نے تبصرہ کیا کہ مسک ایک اسکول کے بچے یا کسی ایسے سیاح کی طرح لگ رہے ہیں جو چینی حکومت کے اس وسیع و عریض ہال کی شان و شوکت اور بناوٹ دیکھ کر مکمل طور پر حیرت زدہ رہ گیا ہو۔
ایلون مسک اس اہم سفارتی اور تجارتی دورے پر اکیلے نہیں آئے بلکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی طیارے ایئرفورس ون میں سوار ہو کر بیجنگ پہنچنے والے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد کے ایک نمایاں رکن تھے۔
اس وفد میں ان کے ساتھ ایپل کے سی ای او ٹم کک اور اینویڈیا کے سربراہ جینسن ہوانگ بھی شامل تھے، جو چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت اور باہمی تجارت کے اہم امور پر مذاکرات کے لیے چین پہنچے تھے۔
تاہم، اس سنگین سیاسی اور کاروباری ماحول میں بھی ایلون مسک کی غیر رسمی اور دلچسپ حرکات نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائے رکھی۔
اس دورے کے دوران کئی ایسے غیر اسکرپٹڈ بھی واقعات پیش آئے جنہوں نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی۔
سرکاری ضیافت اور عشائیے کے دوران ایلون مسک نے ایک بار پھر سب کو ہنسنے پر مجبور کر دیا جب انہوں نے تصاویر کھنچواتے وقت انتہائی مضحکہ خیز چہرے بنائے اور آنکھیں گھمائیں، جس پر انٹرنیٹ صارفین نے انہیں اس اہم سرکاری محفل کا کلاس کلاؤن یعنی سب کو ہنسانے والا طالب علم قرار دیا۔
یہی نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیگر ارب پتی بھی ایلون مسک کے سحر میں جکڑے نظر آئے۔
شیاؤمی کے بانی لی جون اور ایپل کے ٹم کک کو خود ایلون مسک کے پاس جا کر تفریحی سیلفیاں لیتے ہوئے دیکھا گیا، جہاں مسک نے اپنی عادت کے مطابق سنجیدہ ہونے کے بجائے مزاحیہ چہرے بنا کر پوز دیے۔
گریٹ ہال آف دی پیپل کے اندر موجود دیگر مہمانوں اور سفارت کاروں نے بھی ایلون مسک کو اپنے حصار میں لے لیا اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سفارت کاروں کے درمیان بھی ان کی مقبولیت کسی نامور سلیبریٹی سے کم نہیں تھی۔
لیکن اس مقبولیت کے باوجود وہ خود چین کے فین نظر آئے، اور چین کی ترقی کا سحر ان کے سر پر سوار ہوگیا۔
امریکا واپسی پر بھی ایلون مسک چین کی ترقی کے حوالے سے ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے چین کی جانب سے بنائے گئے ایک ایسے ٹرین اسٹیشن کی ویڈیو شیئر کی جو پہاڑ کی چوٹی پر بنایا گیا تھا۔
چین نے پہاڑ کی چوٹی پر دنیا کا سب سے بڑا ’چونگیانگ ایسٹ ریلوے اسٹیشن‘ تعمیر کر کے انجینئرنگ کی دنیا میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
چونگیانگ ایسٹ اسٹیشن نامی یہ میگا پراجیکٹ سات ارب اسی کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے تیار کیا گیا ہے، جس کا کل رقبہ بارہ لاکھ بائیس ہزار مربع میٹر ہے اور یہ اب پوری دنیا کا سب سے بڑا ریلوے ہب بن چکا ہے۔
اس حیرت انگیز پراجیکٹ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے ایک دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر محض 38 مہینوں کے قلیل عرصے میں مکمل کیا گیا ہے، جس کے لیے 40 ہزار ورکرز نے دن رات ایک کر کے اپنی مہارت کا لوہا منوایا۔
اس اسٹیشن کی تعمیر میں جدید ترین اور منفرد سائنسی طریقے استعمال کیے گئے ہیں۔ انجینئرز نے عمارت کی چھت کے لیے 16 ہزار 500 ٹن وزنی اسٹیل کا ایک بہت بڑا فریم ورک پہلے زمین پر ہی مکمل تیار کیا، اور پھر ہائیڈرولک ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بھاری بھرکم چھت کو 34 فٹ کی بلندی سے آہستہ آہستہ اوپر کی طرف سرکاتے ہوئے 44 فٹ اونچے اسٹیل کے ستونوں پر کامیابی سے فٹ کر دیا۔
یہ ستون چین کے مشہور درخت ہوانگ جیو کی شاخوں کی شکل میں ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو نہ صرف دیکھنے میں خوبصورت لگتے ہیں بلکہ اسٹیشن کو شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
پہاڑ کی ڈھلوان پر اتنی بلندی پر اسٹیشن کی بیرونی دیواروں پر اسٹینلیس اسٹیل کی چادریں چڑھانا ایک انتہائی پرخطر اور مشکل کام تھا، جسے چینی کاریگروں نے بحسن و خوبی انجام دیا۔
یہ اسٹیشن اب جنوب مغربی چین کو ملک کے چودہ بڑے شہروں سے جوڑنے والی تیز ترین ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک کا مرکزی گڑھ بن گیا ہے۔
اس منصوبے کی کامیابی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مشکل ترین جغرافیائی حالات اور پہاڑی علاقوں میں بھی اگر درست حکمتِ عملی اور جدید ترین مشینری کا استعمال کیا جائے، تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
چین کے اس نئے شاہکار کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی جا رہی ہیں، اور دنیا بھر کے صنعتی اور ٹیکنالوجی کے ماہرین اس تیز رفتار ترقی اور جدید طرزِ تعمیر کو داد دیے بغیر نہیں رہ پا رہے۔
.png)
12 minutes ago
1






English (US) ·