Times of Pakistan

ایرانی وزیر خارجہ اور کرد رہنما بافل طالبانی میں ٹیلیفونک رابطہ

1 week ago 5
ARTICLE AD BOX

شائع 05 مارچ 2026 09:08am

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشترکہ سرحد پر سیکیورٹی صورتحال اور مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کے معاملے پر گفتگو کی گئی۔

ترک خبر رساں ایجنسی ’انا دولو‘ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراق کے کرد سیاسی رہنما اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے سربراہ بافل طالبانی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران اور عراق کی مشترکہ سرحد کے قریب مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ گفتگو کے دوران بافل طالبانی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر ہلاک ہونے والے افراد کی ہلاکت پر تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جنہیں ایرانی بیان میں ’امریکی اور صہیونی جرم‘ کا نشانہ قرار دیا گیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے سرحدی علاقوں میں “دہشت گرد نقل و حرکت” کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں فریقین کے درمیان موجود سیکیورٹی مفاہمتوں کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

بیان کے مطابق بافل طالبانی نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں جانب تعاون اور رابطہ کاری کے ذریعے کسی بھی ممکنہ عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمی کو روکا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گفتگو میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ سرحد پر امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تعاون جاری رکھا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں دعوی کیا تھا کہ واشنگٹن نے ایرانی کرد اپوزیشن رہنماؤں اور عراقی کرد قیادت سے رابطے تیز کر دیے ہیں اور مبینہ طور پر ایران میں حکومت مخالف سرگرمیوں کی حمایت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے ایرانی کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد ایران میں عوامی بغاوت کو ہوا دینا بتایا جا رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی اپوزیشن گروپوں اور عراق کے کرد رہنماؤں سے ممکنہ فوجی تعاون کے حوالے سے سرگرم رابطے شروع کر رکھے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروہوں کے ہزاروں جنگجو عراق اور ایران کی سرحد کے ساتھ سرگرم ہیں، جن کی بڑی تعداد عراق کے کردستان ریجن میں موجود ہے۔ حالیہ دنوں میں ان میں سے کئی گروہوں نے بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائیوں کا اشارہ دیا گیا اور ایرانی فوجی اہلکاروں کو حکومت سے الگ ہونے کی اپیل بھی کی گئی۔

Read Entire Article