ARTICLE AD BOX
ایران پر بے رحمانہ حملوں کے باوجود امریکا اور اسرائیل ایران میں اہداف حاصل نہ کرسکے، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ انٹیلی جنس رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اپنے 70 فیصد بیلسٹک میزائل اور 75 فیصد موبائل لانچرز محفوظ رکھنے میں کامیاب رہا، رپورٹ کے مطابق ایران امریکی بحری ناکہ بندی کا بھی کئی ماہ تک مقابلہ کر سکتا ہے جب کہ زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہیں دوبارہ فعال کر دی گئی ہیں۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کو پیش کی گئی سی آئی اے کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کم از کم تین سے چار ماہ تک امریکی بحری ناکہ بندی کا مقابلہ کر سکتا ہے، اس کے بعد ہی اسے شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کا ماننا ہے کہ ایران اب بھی اپنے جنگ سے پہلے موجود تقریباً 70 فیصد بیلسٹک میزائل اور 75 فیصد موبائل لانچرز برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے متاثر ہونے والی بعض زیرِ زمین تنصیبات کو دوبارہ فعال کر لیا ہے، کچھ تباہ شدہ میزائلوں کی مرمت کی گئی ہے جب کہ نئے میزائل بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
اس کے برعکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے زیادہ تر میزائل تباہ ہو چکے ہیں اور اس کے پاس محدود صلاحیت باقی رہ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام عوامی سطح پر ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں تاہم خفیہ انٹیلی جنس تجزیے زیادہ محتاط تصویر پیش کر رہے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت پر شدید دباؤ موجود ہے اور ملک کو روزانہ کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے تاہم سی آئی اے کے اندازے کے مطابق ایران 90 سے 120 روز تک اس صورت حال کو برداشت کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران بعض تیل بردار جہازوں میں تیل ذخیرہ کر رہا ہے اور ممکنہ طور پر زمینی راستوں، خصوصاً وسطی ایشیا کے ذریعے ریل اور ٹرکوں کے ذریعے تیل کی ترسیل کے متبادل آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جنگ سے قبل ایران کے پاس تقریباً 2500 بیلسٹک میزائل اور ہزاروں ڈرون موجود تھے، جنہیں خطے میں امریکی اتحادیوں اور فوجی تنصیبات کے خلاف استعمال کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرنے کے لیے ایران کے کم لاگت ڈرون زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، کیوں کہ ایک ڈرون حملہ بھی تیل بردار جہازوں کے انشورنس نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے باوجود بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی خطے میں اپنی اسٹریٹجک اور عسکری صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔
.png)
1 hour ago
3




English (US) ·