ARTICLE AD BOX
مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ صرف جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے تک محدود ہوگا: رائٹرز
اپ ڈیٹ 10 مئ 2026 09:07pm
ایران نے امریکا کی مذاکرات سے متعلق تجویز پر باضابطہ جواب پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو ارسال کردیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران نے آئندہ مذاکرات کے ابتدائی مراحل کو جنگ کے خاتمے تک مرکوز رکھنے اور دیگر پیچیدہ معاملات بعد کے مراحل میں زیرِ بحث لانے کی تجویز دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ایرانی جواب موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی ’اِرنا‘ نے اتوار کے روز رپورٹ کیا کہ ایران نے امریکی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں مذاکرات کو صرف جنگ کے خاتمے تک مرکوز رکھا جائے، جب کہ ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر پیچیدہ معاملات کو بعد کے مراحل میں زیرِ غور لایا جائے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہبازشریف نے اسلام آباد میں معرکہ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب کے دوران اپنے خطاب میں ایران کا جواب موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ایران-امریکا مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کے کلیدی کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ابھی بتایا کہ ایران کا جواب موصول ہوچکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق دونوں جانب کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس نئی پیش رفت کا مقصد ایک عارضی مفاہمتی یادداشت طے کرنا ہے، جس کے تحت جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔
واضح رہے کہ امریکی تجویز ایران کی جانب سے پیش کیے گئے 14 نکاتی منصوبے کے جواب میں سامنے آئی تھی، جس میں ایران کی جانب سے جنگ کے مکمل خاتمے کی شرط پر زور دیا گیا تھا۔
ایران کے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی کے حالیہ جواب میں بھی لبنان پر اسرائیلی حملوں سمیت تمام محاذوں پر حملوں کے مستقل خاتمے اور خلیجِ فارس میں جہاز رانی کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔
اس سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا تھا کہ تہران کی جانب سے امریکی تجاویز پر حتمی موقف داخلی جائزے اور اعلیٰ سطح کے مشوروں کے بعد ہی پاکستانی حکام کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا جائے گا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور اس تنازع کے مستقل حل کے لیے پاکستان کا بطور ثالث کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
پاکستان نے ہی 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی میں بنیادی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی جنگ رک گئی تھی۔ اس جنگ بندی کے چند روز بعد اسلام آباد میں فریقین کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا دور بھی ہوا تھا، جس میں کوئی بڑا بریک تھرو حاصل نہیں ہو سکا تھا۔
اس کے بعد بھی دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی کوشش کارگر ثابت نہیں ہوسکی تھی، جس کی بنیادی وجہ ایران کا مؤقف تھا جس کے مطابق جب تک امریکا بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، اس وقت تک کسی بات چیت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے بھی امریکی مذاکرات کاروں کو اسلام آباد جانے سے روک دیا تھا۔
دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کو ایک ماہ مکمل ہونے کے بعد 7 اور 8 مئی کی شب خلیجِ عمان میں جھڑپ ہوئی، جس کے بعد کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ جھڑپوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے اور مذاکرات کسی بھی وقت ایک اہم معاہدے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔
.png)
53 minutes ago
3






English (US) ·