ARTICLE AD BOX
اسرائیلی وزیراعظم آفس کے مطابق اس دورے کے نتیجے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت ہوئی۔
اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران انہوں نے خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی حکومت کے اس اعتراف نے خطے میں اسرائیل اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتے سکیورٹی تعاون کو ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ٹائمز آف اسرائیل‘ کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید سے خفیہ ملاقات کی۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر کے مطابق اس ملاقات نے اسرائیل اور یو اے ای کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران جنگ کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں بھی اضافہ ہوا۔ اس سے قبل امریکی حکام تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو آئرن ڈوم دفاعی نظام اور اسے چلانے کے لیے فوجی اہلکار فراہم کیے تھے۔
اسی دوران اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا نے بھی ایران جنگ کے دوران کم از کم دو مرتبہ یو اے ای کا دورہ کیا تاکہ جنگی صورتِ حال اور سیکیورٹی تعاون پر رابطہ رکھا جا سکے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ایران کے ایک بڑے پیٹروکیمیکل مرکز پر کارروائی کے معاملے میں بھی باہمی رابطہ رکھا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدوں کے تحت سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جب کہ اس سے قبل 2018 میں بھی نیتن یاہو کے خفیہ طور پر یو اے ای جانے کی رپورٹس سامنے آئی تھیں۔
.png)
3 hours ago
3




English (US) ·