ARTICLE AD BOX
اپ ڈیٹ 23 جون 2026 09:36pm
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کی دعوت پر اگلے ہفتے تہران جانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر ممالک ہیں اور دونوں قوموں کے دکھ سکھ مشترک ہیں۔ انہوں نے خطے میں جنگ کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع پورے خطے اور اس سے باہر بھی پھیل سکتا تھا، تاہم مذاکرات کے آغاز سے امن کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔
اسلام آباد میں صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران محض ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ بھائی ہیں اور دونوں ممالک کے عوام مذہب، تاریخ اور ثقافت کے مضبوط رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔
شہباز شریف نے اپنی گفتگو کا آغاز فارسی کے ایک شعر سے کیا، جس کا مفہوم تھا کہ ’خوشی میں تو ہر کوئی ہاتھ تھامنے کو تیار ہوتا ہے لیکن سچے دوست کی پہچان اچھے دنوں میں نہیں بلکہ مصیبت، پریشانی اور آزمائش کے وقت ہوتی ہے۔‘
شہباز شریف نے اپنے خطاب میں ایرانی وفد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی خوشی ہماری خوشی اور آپ کا غم ہمارا غم ہے۔ ایران کا نقصان ہمارا نقصان ہے۔‘ ایرانی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ایک بھائی کی حیثیت سے ہم آپ کو کبھی مایوس نہیں کریں گے۔‘
وزیراعظم نے حالیہ جنگ کے دوران قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی عوام سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان ہزاروں بے گناہ ایرانیوں خصوصاً بچوں کی شہادت پر دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت اور رہنمائی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے مشکل حالات میں جس اتحاد اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا وہ قابلِ تحسین ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کے سفارتی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے کہ ایرانی قیادت نے پاکستان کی دیانت دارانہ اور مخلصانہ ثالثی کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔
.png)
2 hours ago
2




English (US) ·