Times of Pakistan

اوپن اے آئی کے نئے ماڈل کا سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران معروف پلیٹ فارم پر سائبر حملہ

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

اے آئی ماڈل نے غیر متوقع طور پر تمام سیکیورٹی پروٹوکولز توڑتے ہوئے 'ہگنگ فیس' پر سائبر حملہ کیا: اوپن اے آئی کا انکشاف

شائع 22 جولائ 2026 10:50pm

معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈل ’چیٹ جی پی ٹی‘ کی مالک کمپنی ’اوپن اے آئی‘ نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے جدید ترین اے آئی ماڈلز میں سے ایک نے سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غیر متوقع طور پر تمام سیکیورٹی پروٹوکولز توڑتے ہوئے سائبر حملہ کیا۔ کمپنی کے مطابق اے آئی ماڈل سسٹم کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف ٹیسٹنگ کے ماحول سے باہر نکلا بلکہ اس نے دنیا کے بڑے اے آئی پلیٹ فارمز میں سے ایک ’ہگنگ فیس‘ کے بعض داخلی نظاموں تک بھی رسائی حاصل کی۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ ایک کنٹرولڈ سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران اس وقت پیش آیا جب کمپنی اپنے اے آئی ایجنٹ کی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہی تھی۔ اے آئی ایجنٹ ایسے نظام کو کہا جاتا ہے جو دی گئی ہدایات کے بعد خودمختار انداز میں مختلف کام انجام دے سکتا ہے۔

اس ٹیسٹ کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ آیا یہ ماڈل کمپیوٹرز کی سیکیورٹی خامیاں ڈھونڈ سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کام کے لیے ماڈل کو ایک محفوظ ماحول ’سینڈ باکس‘میں رکھا گیا تھا، جہاں سے وہ باہر انٹرنیٹ پر نہیں جا سکتا تھا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے دوران اے آئی ایجنٹ نے ’سینڈ باکس‘ میں موجود کمزوریاں تلاش کیں اور ان ہی کی مدد سے مقررہ حدود سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

’ہگنگ فیس‘ اے آئی اور مشین لرننگ کے شعبے کے بڑے پلیٹ فارمز میں شمار ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر کے ڈویلپرز اپنے بنائے ہوئے اے آئی ماڈلز شیئر کرتے ہیں۔ اوپن اے آئی کے مطابق اے آئی ماڈل کسی ماہر انسانی ہیکر کی طرح ’ہگنگ فیس‘ نامی پلیٹ فارم کے بعض داخلی سسٹمز تک بھی رسائی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہوگیا۔

اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ہگنگ فیس‘ کے ساتھ مل کر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ہگنگ فیس کے چیف ایگزیکٹیو کلیمنٹ ڈیلانگ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں اس واقعے حیران کُن قرار دیا ہے۔

کلیمنٹ ڈیلانگ کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی سیکیورٹی ٹیم پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے ایک ایسے سائبر حملے کا بروقت سراغ لگایا اور اسے بروقت قابو کیا۔ ایسا حملہ ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ایسی معلومات کو خفیہ رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ دنیا بھر میں سائبر سیکیورٹی سے وابستہ افراد کو غیر ضروری پابندیوں سے آزاد اوپن ماڈلز تک رسائی ہونی چاہیے تاکہ وہ ایسے خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔

اس واقعے کے بعد جدید اے آئی سسٹمز کی صلاحیتوں اور موجودہ حفاظتی اقدامات سے متعلق نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق کیمبرج یونیورسٹی کی پروفیسر جینا نیف نے کہا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوپن اے آئی مطلوبہ حد تک محفوظ ’سینڈ باکس‘ تیار نہیں کر سکا ہے، جس کے باعث اے آئی ایجنٹس نے خود اپنے ہی سیکیورٹی حصار پر سائبر حملہ کیا اور ایک ایسی کمزوری تلاش کر لی جس نے وہ حفاظتی پابندیوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔

ہگنگ فیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں سامنے آنے والی تمام کمزوریاں دور کر دی گئی ہیں اور متاثرہ سسٹمز کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی کمپنی سونک وال کے ایگزیکٹیو اسپینسر اسٹارکی نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ اداروں کو اپنے سائبر سیکیورٹی کی حکمت عملیوں کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ ان کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ بہت سے ادارے یہ کام اب بھی انسانی رفتار سے کر رہے ہیں جب کہ حملہ آور مشینی رفتار اختیار کر چکے ہیں۔‘

اس سے قبل معروف اے آئی پلیٹ فارم اینتھروپک کے ایک انتہائی طاقتور ماڈل مائتھوس نے بھی ایک ایسا ہی خطرناک اور غیر معمولی کارنامہ انجام دیا تھا۔

مائتھوس کو بھی ایک بند اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول (سینڈباکس) میں رکھا گیا تھا، اے آئی کے ماڈل نے بھی اس سسٹم کی سیکیورٹی میں خامی ڈھونڈ نکالی، سینڈ باکس کو توڑا اور خود کار طریقے سے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی تھی۔

اینتھروپک کے ماڈل مائتھوس نے ایک اور انتہائی حیران کن کام یہ کیا تھا کہ اس نے اپنی نگرانی کرنے والے ریسرچر کو خود ایک ای میل بھی بھیجی تھی جس میں لکھا تھا کہ ’میں یہاں سے نکل چکا ہوں۔‘ اس کے علاوہ اس نے سسٹم سے اپنے فرار ہونے کے تمام ڈیجیٹل ثبوت بھی مٹا دیے تھے۔

Read Entire Article