Times of Pakistan

انگلینڈ اور فرانس کے میچ میں گولز کی بارش، 'ورلڈ کپ فائنل تو یہ ہونا چاہیے تھا'

7 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

ورلڈ کپ کا ناقابلِ یقین میچ؛ انگلینڈ نے فرانس کو 6-4 سے ہرا دیا، پہلے ہاف میں چار گول کی برتری، فرانسیسی مداح غصے سے آگ بگولہ

شائع 19 جولائ 2026 09:14am

اتوار کے روز شیڈول فائنل میچ سے ٹھیک ایک دن پہلے، فٹ بال ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا گیا میچ کھیل کی تاریخ کا ایک لازوال اور کبھی نہ بھولنے والا سنسنی خیز مقابلہ بن گیا ہے۔ اس انتہائی ہائی اسکورنگ اور اعصاب شکن میچ میں انگلینڈ نے فرانس کو چار کے مقابلے میں چھ گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں تیسری پوزیشن اپنے نام کر لی ہے۔

اس میچ میں اتنے زیادہ گول ہوئے کہ شائقین میچ کے آخری لمحے تک اپنی نشستوں پر ٹِک ہی نہ پائے اور اب یہ کہا جا رہا ہے کہ اتوار کو ہوانے والا فائنل میچ کا وہ مزہ نہیں آئے گا جو اس میچ نے دیا۔

میچ کے پہلے ہاف میں انگلینڈ کی ٹیم، جسے تھری لائنز بھی کہا جاتا ہے، فرانسیسی ٹیم پر پوری طرح حاوی رہی۔

میچ کے تیسرے ہی منٹ میں انگلینڈ کے ڈیکلن رائس نے فرانسیسی کھلاڑی کے ایک غلط پاس کو بیچ راستے میں روکا اور گیند کو سیدھا گول پوسٹ میں ڈال کر اپنی ٹیم کو ایک صفر کی برتری دلا دی۔

اس پہلے گول نے فرانسیسی دفاع کے بندھن توڑ دیے اور انگلینڈ نے ایک کے بعد ایک گول داغنے شروع کر دیے۔

میچ کے اٹھارویں منٹ میں ازری کونسا نے اچھل کر ایک شاندار ہیڈر کے ذریعے اسکور 2-0 کر دیا، جس پر انگلش مداحوں کو اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ ایک مداح نے تو سوشل میڈیا پر یہ تک لکھا کہ فرانس اس وقت اتنی بری کارکردگی دکھا رہا ہے کہ ہم جو چاہیں حاصل کر سکتے ہیں۔

میچ کے سینتیسویں منٹ میں فرانس کی مضحکہ خیز پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بوکایو ساکا نے تیسرا گول کر دیا۔

ہاف ٹائم ختم ہونے سے ذرا پہلے بوکایو ساکا نے ایک اور بہترین گول کر کے انگلینڈ کی برتری کو 4-0 کر دیا۔

یہ فرانس کی تاریخ کا ایک بدترین ہاف تھا کیونکہ اپریل 1968 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ فرانس نے کسی میچ کے پہلے ہاف میں چار گول کھائے ہوں۔

فرانس کی اس کارکردگی پر ایک سوشل میڈیا صارف نے طنزیہ میم شئیر کی، جس میں ایک فرانس کے کمزور دفاع کو دکھایا گیا۔

فرانس کی اس انتہائی سست اور مایوس کن کارکردگی پر اسٹیڈیم اور سوشل میڈیا پر موجود فرانسیسی مداحوں نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔

دراصل فرانسیسی کھلاڑی ابراہیمی کوناٹے نے میچ سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ فرانسیسی کھلاڑی انگلینڈ کے خلاف تیسری پوزیشن کا یہ میچ نہیں کھیلنا چاہتے اور اسے چاکلیٹ میڈل کا میچ قرار دیا تھا۔

ان کی اس بات اور پہلے ہاف میں انتہائی ناقص کارکردگی پر ایک مداح نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برہم ہوتے ہوئے لکھا کہ فرانس، اگرچہ آپ کو اس میچ کی کوئی پرواہ نہیں ہے، لیکن پہلے ہاف میں چار گول کھا لینا انتہائی گھناؤنا عمل ہے، خاص طور پر ان مداحوں کے لیے جو اتنی گرمی میں یہاں میامی تک سفر کر کے آئے اور اسٹیڈیم میں آپ کی حمایت کے لیے پیسے خرچ کیے۔

ایک اور مداح نے فرانسیسی کھلاڑی کوناٹے پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ فرانس نے پورے ورلڈ کپ میں مجموعی طور پر صرف چار گول کھائے تھے، لیکن کوناٹے نے انگلینڈ کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلتے ہی صرف پینتالیس منٹ میں چار گول کھا لیے۔

ایک اور مداح نے تو مایوسی میں یہاں تک لکھ دیا کہ یہ فرانس ایک بالکل بیکار ٹیم بن چکی ہے۔

ماہرین کا ماننا تھا کہ مسلسل تیسری بار ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے کا موقع گنوانے کے بعد فرانسیسی کھلاڑیوں کے پاس اس میچ کے لیے کوئی حوصلہ یا لگن باقی نہیں بچی تھی۔

لیکن دوسرے ہاف میں فرانسیسی ٹیم نے میچ میں واپسی کے لیے زبردست تبدیلیوں کا سہارا لیا اور کھیل کو انتہائی سنسنی خیز بنا دیا۔

کیلیان ایمباپے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے دو گول داغے جبکہ بریڈلی بارکولا نے ایک گول کر کے اسکور کو 4-3 تک پہنچا دیا، جس سے اسٹیڈیم میں موجود تماشائیوں کا ڈوپامن لیول شوٹ کرگیا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو بیکار سمجھنے پر معافی بھی مانگی۔

فرانس کی اس زبردست واپسی کے باوجود انگلینڈ کے بوکایو ساکا اور جوڈ بیلنگھم نے آخری لمحات میں مزید گول کر کے میچ کو اپنے حق کرکے ختم کر دیا۔

انگلینڈ کے ہیڈ کوچ تھامس ٹوچل نے اپنی ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کی ٹیم ورلڈ کپ کے اس میچ کو ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتی ہے اور انہوں نے دوسرے ہاف میں فرانس کی واپسی سے پہلے تک انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں کھیل پیش کیا جس کی بدولت وہ جیت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

میچ کے بعد بھی مداحوں کا نشہ نہیں اُترا اور انہوں نے کاص طور پر سوشل میڈیا پر اس شاندار میچ کی تعریف کی۔ ایک سوشل میڈیا صارف نے اس میچ کو نسلوں تک یاد رکھا جانےوالا قرار دیا۔

ایک صارف نے ان لوگوں پر تنقید کی جنہوں نے تھرڈ پوزہیشن کے لیے کھیلنے جانے والے میچ کو بورنگ سمجھ کر تنقید کی تھی۔

ایک مداح نے ان لوگوں کے لیے طنزیہ دو منٹ کی علامتی خاموشی بھی اختیار کی جنہوں نے اس میچ کو بورنگ سمجھ کر نہیں دیکھا۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے اسے فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ کا سب سے بہترین میچ قرار دیا۔

جبکی ایک صارف نے لکھا کہ ’اس میچ کو تو فائنل ہونا چاہیے تھا‘۔

Read Entire Article