ARTICLE AD BOX
پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ کسی کے پاس ایسے ڈولفنز موجود ہیں یا نہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران سے منسوب خودکش ڈولفنز کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی تصدیق موجود نہیں۔ یہ معاملہ ایک میڈیا رپورٹ کے بعد زیرِ بحث آیا۔
امریکی محکمۂ دفاع کی منگل کے روز ہونے والی بریفنگ میں صحافیوں نے ایران سے منسوب ’خودکش ڈولفنز‘ کے غیر معمولی دعوے پر سوال کیا۔ اس پر امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے جواب دیا کہ وہ اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتے کہ کسی کے پاس ایسے ڈولفنز موجود ہیں یا نہیں، تاہم ان کے مطابق یہ بات واضح ہے کہ ایران کے پاس ایسے ڈولفنز نہیں ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس نیوز‘ کے مطاق یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب گذشتہ دنوں امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی ایک رپورٹ میں ایرانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ تہران ماضی کے ایک پروگرام پر غور کر سکتا ہے جس کے تحت تربیت یافتہ ڈولفنز کو سمندری آپریشنز یا بارودی سرنگوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس نے مبینہ طور پر 2000 میں سابق سوویت یونین کے ایک پروگرام سے ڈولفنز حاصل کیے تھے، تاہم اس بات کی کوئی تصدیق موجود نہیں کہ یہ صلاحیتیں یا پروگرام اس وقت فعال ہیں۔
اس رپورٹ کے بعد یہ معاملہ امریکی میڈیا میں بھی زیرِ بحث رہا، جہاں ’سی این این‘ اور ’فاکس نیوز‘ سمیت مختلف اداروں نے اس پر گفتگو کی۔ تاہم ایران کی جانب سے اس دعوے کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ بعض ایرانی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو عجیب قرار دیا ہے۔
امریکی حکام نے بریفنگ کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ امریکی بحریہ کا ایک ’میرین میمل پروگرام‘ موجود ہے، جس کے تحت ڈولفنز کو بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور سمندری مشنز میں مدد کے لیے تربیت دی جاتی ہے، تاہم انہیں بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جاتا۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·