ARTICLE AD BOX
عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔
شائع 28 اپريل 2026 08:44am
واشنگٹن میں منعقدہ صحافیوں اور سیاست دانوں کی سالانہ تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے الزام میں گرفتار 31 سالہ ملزم کول ٹامس ایلن پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔
پیر کے روز واشنگٹن کی وفاقی عدالت میں پہلی پیشی کے موقع پر ملزم نے نیلے رنگ کا جیل کا لباس پہن رکھا تھا اور اس کے ہاتھ پشت پر ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔
اس حملے کو امریکی صدر کو قتل کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا گیا ہے اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ملزم کو عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
استغاثہ کی وکیل جوسلین بیلانٹائن نے عدالت میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس شخص نے ریاستہائے متحدہ کے صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ واقعہ امریکا میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کے سلسلے کی تازہ ترین کڑی ہے۔ گزشتہ ستمبر میں ایک سیاسی کارکن چارلی کرک کو ریلی کے دوران قتل کیا گیا تھا، جبکہ اس سے قبل ایک ڈیموکریٹک قانون ساز اور ان کے شوہر بھی تشدد کا نشانہ بنے تھے۔
خود صدر ٹرمپ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران دو بار قاتلانہ حملوں کا ہدف بن چکے ہیں۔
قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے سماعت کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ تفتیش کاروں کا ماننا ہے کہ ایلن نے ٹرمپ کو اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ اس نے واقعے کی رات اپنے رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک ای میل میں صدر کو غدار، ریپسٹ اور بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا قرار دیا تھا۔
ٹوڈ بلانچ کا کہنا تھا کہ مہذب زندگی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے، اسے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر کے خلاف اس طرح کے اقدامات جاری رہنے دیے جائیں گے۔
کیلیفورنیا کے شہر ٹورنس سے تعلق رکھنے والے ایلن پر ریاستوں کے درمیان غیر قانونی طور پر اسلحہ منتقل کرنے اور پرتشدد جرم کے دوران گولی چلانے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم اپنے ساتھ ایک پمپ ایکشن شاٹ گن، تین چاقو اور ایک خودکار پستول لے کر واشنگٹن پہنچا تھا۔
حکام نے شاٹ گن کے اندر سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ وہاں فائرنگ کی گئی تھی۔
مختصر سماعت کے دوران ایلن نے الزامات کا کوئی جواب نہیں دیا، البتہ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس نے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔
ملزم کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایلن کا اس سے قبل کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
ایف بی آئی کے بیانِ حلفی کے مطابق ایلن نے 6 اپریل کو اسی ہوٹل میں کمرہ بک کرایا تھا جہاں یہ تقریب ہونی تھی اور وہ گزشتہ ہفتے ٹرین کے ذریعے کیلیفورنیا سے واشنگٹن پہنچا تھا۔
ہفتے کے روز اس نے اپنے خاندان کو ایک ای میل بھیجی جس میں خود کو دوستانہ وفاقی قاتل قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو نشانہ بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا تھا۔
اس ای میل میں ایلن نے لکھا تھا کہ میں نے یہ سب کیوں کیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکا کا شہری ہوں اور میرے نمائندے جو کچھ کرتے ہیں اس کا اثر مجھ پر پڑتا ہے۔
اس واقعے نے واشنگٹن کی بڑی سماجی تقریب میں کہرام مچا دیا تھا، لوگ جان بچانے کے لیے میزوں کے نیچے چھپ گئے تھے جبکہ سیکیورٹی اہلکار صدر ٹرمپ کو اسٹیج سے بحفاظت نکال کر لے گئے تھے۔
امریکی حکام نے ملزم کی فوری گرفتاری کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی قرار دیا ہے، تاہم اس واقعے نے صدر اور دیگر حکام کی سیکیورٹی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
بیانِ حلفی کے مطابق ایلن ہوٹل کے سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر لگی مشین سے اسلحہ سمیت تیزی سے گزرا، جس پر ایک سیکیورٹی افسر نے اس پر گولی چلائی، ایلن زمین پر گر گیا لیکن اسے گولی نہیں لگی۔
اس ہنگامہ آرائی کے دوران ایک سیکیورٹی افسر کے سینے میں گولی لگی لیکن وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ گولی کس کی طرف سے چلائی گئی تھی۔
جج میتھیو شاربا نے حکم دیا ہے کہ ملزم کو کم از کم جمعرات تک حراست میں رکھا جائے جب اس کی ضمانت یا مستقل قید کے حوالے سے دوبارہ سماعت ہوگی۔
.png)
2 hours ago
1






English (US) ·