ARTICLE AD BOX
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کا دھمکی آمیز رویہ، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی کو امن کی راہ میں...
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کا دھمکی آمیز رویہ، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی کو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا ہے۔
بدھ کو ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا اصل مسئلہ امریکا اور اسرائیل کی جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزی ہے۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ ایران اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضوابط تیار کر رہا ہے۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ایرانی وزیر خارجہ نے کویت میں گرفتار 4 ایرانی شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ کویت نے خلیج فارس میں ایک ایرانی کشتی پر غیرقانونی حملہ کیا اور 4 ایرانی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ واقعہ اُس جزیرے کے قریب پیش آیا جسے امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کویت کی جانب سے کی گئی غیرقانونی کارروائی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اس سے قبل کویت ایران پر الزام عائد کر چکا ہے کہ ایران نے مبینہ طور پر بوبیان جزیرے میں دراندازی کی کوشش کی۔ کویتی حکام کے مطابق واقعہ شط العرب کے دہانے اور ایرانی سرحد کے قریب شمال مغربی خلیج فارس میں پیش آیا۔
تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ گرفتار افراد معمول کی بحری گشت پر تھے اور نیویگیشن سسٹم میں خرابی کے باعث کویتی حدود میں داخل ہوئے۔
ایران نے کویتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار شہریوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور انہیں قونصلر رسائی فراہم کی جائے۔
ادھر ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا، اسرائیل کی جنگ سے پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں، امریکا کے ساتھ جنگ بندی برقرار ہے، ایرانی افواج تیاری برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا ایران کی پاسداران انقلاب کی بحریہ آبنائے ہرمز کا مغربی حصہ کنٹرول کرتی ہے، آبنائے ہرمز کے مغربی حصے کو ایران کی بحری افواج کنٹرول کرتی ہیں، جنگ کے دوران ایرانی فوج نے دشمن کو کسی بھی ہدف تک پہنچنے سے روکا، جنگ کے دوران پورے مشرق وسطیٰ میں اڈوں پر امریکی فوجی ساز و سامان کو تباہ کیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے امریکا کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز سے کوئی بھی آئل ٹینکر ایران کی اجازت کے بغیر نہیں گزر سکتا اور ضرورت پڑنے پر یہ آبی گزرگاہ امریکی افواج کے لیے قبرستان بن سکتی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب بحریہ کے ثقافتی و نفسیاتی آپریشنز کے نائب کیپٹن سعید سرانی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج کو خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام اور حکام حکم دیں تو ایران آبنائے ہرمز سے ایک لیٹر تیل بھی اپنی اجازت کے بغیر گزرنے نہیں دے گا۔
کیپٹن سعید سرانی نے مزید کہا کہ اگرچہ مکمل بحری جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی، تاہم ایران نے ’اسمارٹ ناکہ بندی‘ نافذ کر رکھی ہے اور غیر روایتی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیےامریکی ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔
ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ جس ملک کے جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنا چاہیں انہیں ایران کی مسلح افواج کی نگرانی میں گزرنا ہوگا تاکہ محفوظ آمدورفت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز اب ایرانی افواج کے ’اسٹریٹجک کنٹرول‘ میں ہے جہاں مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
.png)
3 hours ago
3




English (US) ·