Times of Pakistan

امریکا ہمارے حقوق کا احترام اور امن معاہدے پر عمل کرے، آبنائے ہرمز کھل جائے گی: ایران

2 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے کسی بھی قسم کی جارحیت یا دباؤ وقت کا ضیاع ہے: ترجمان ایرانی فوج

شائع 14 جولائ 2026 07:21pm

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی بھی قسم کی جارحیت یا دباؤ وقت کا ضیاع ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کو بحال کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ امریکا ایران کے حقوق کا احترام کرے اور دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ امریکا کے صدر کو بین الاقوامی قانون، دوسری اقوام کے حقوق اور عوام کے وقار کا احترام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران پہلے بھی واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ، دشمنی یا امریکی جارحیت کے ذریعے کبھی نہیں کھولی جائے گی۔

بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا کہ عبوری معاہدے کے تحت ایران نے 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کو بغیر ٹول گزرنے کی اجازت دی تھی اور اس مقصد کے لیے خصوصی بحری راستہ بھی مقرر کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ امریکا نے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے متعلق ایران کے انتظامات کو قبول کیا تھا، تاہم بعد میں اس نے ”دھوکے“ کے ذریعے نیا راستہ قائم کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے بحری جہازوں کو ایک ایسے راستے سے گزارنے کی کوشش کی جسے ایران غیرقانونی قرار دیتا ہے، جس کے بعد ایران نے اس گزرگاہ کو دوبارہ بند کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکا علاقائی بحری نقل و حرکت میں مداخلت ختم نہیں کرتا، یہ بندش برقرار رہے گی۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے واضح کیا کہ مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ انتظامات سے ہٹ کر آبنائے ہرمز میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا فیصلہ کُن جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کا خیال تھا کہ وہ ایران کو کمزور کر سکتا ہے، تاہم ایرانی قوم کے اتحاد نے اس کے تمام حربوں کو ناکام بنا دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوئے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی کے خاتمے اور بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کے بحری محاصرے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کی ناکہ بندی کو بحال کر رہا ہے، جس کے تحت صرف ایرانی جہازوں یا ایران سے آنے والے جہازوں پر پابندی عائد ہوگی، جب کہ دیگر تمام ممالک کو آبنائے ہرمز کے آزادانہ استعمال کی اجازت ہوگی۔

اس بیان پر ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ ایرانی فوج کے سینٹرل ہیڈکوارٹر ’خاتم الانبیا‘ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا۔ بیان کے مطابق ایران کی مسلح افواج امریکی فوج کی جانب سے تجارتی اور تیل بردار جہازوں کی آمدورفت میں پیدا کی جانے والی کسی بھی رکاوٹ یا عدم تحفظ کا بھرپور جواب دیں گی۔

Read Entire Article