ARTICLE AD BOX
شائع 14 جولائ 2026 08:38am
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب ایک ایسے خوفناک موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں سمندر میں آگ لگ چکی ہے اور خشکی سے لے کر پانی تک ہر طرف دھماکے ہو رہے ہیں۔ امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ یعنی سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایران پر پانچ گھنٹے تک بمباری کی ہے۔ جبکہ ایران نے بھی جوابی کارروائی میں تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سینٹ کام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں بتایا کہ اس نے تیرہ جولائی کی رات ایران پر پانچ گھنٹے طویل بمباری کا ایک بہت بڑا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔
امریکی فوج کے مطابق، اس حملے میں ایران کے ساحلی علاقوں بشمول بوشہر، چاہ بہار، جاسک، کنارک، ابو موسیٰ اور بندر عباس میں قائم فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایران کے ساحلی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون اڈوں کو تباہ کرنے کے لیے انتہائی جدید ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے تاکہ ایران کی طرف سے سمندری جہازوں پر حملے کرنے کی طاقت کو ختم کیا جا سکے۔
امریکی فوج نے بتایا کہ اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں پچاس ہزار سے زیادہ امریکی فوجی الرٹ اور ہر وقت کارروائی کے لیے تیار کھڑے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ امریکا آج رات ایران پر بہت بھاری بمباری کرے گا، ایرانی میڈیا نے بھی ملک کے طول و عرض میں دھماکوں کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی نیوز ایجنسی ’مہر’ کے مطابق، صوبہ خوزستان کے شہر امیدیہ میں ہونے والے حملوں میں چار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے جزیروں قشم، ابو موسیٰ اور کیش میں بھی دھماکوں کی ہولناک آوازیں سنی گئی ہیں۔
اسی دوران عراق کے شمالی علاقے اربیل سے بھی یہ خبر آئی ہے کہ وہاں ایران کے مخالف کرد گروپ کے ایک ٹھکانے پر میزائل گرا ہے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکا کے ان حملوں کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایکشن لیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے دو بڑے تیل بردار سُپر ٹینکرز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے اس حملے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے عمان کی سمندری حدود میں ان کے دو بڑے جہازوں ’مومباسا‘ اور ’باہیہ‘ پر دو کروز میزائل داغے جس سے دونوں جہازوں میں شدید آگ لگ گئی۔
یو اے ای کے حکام کے مطابق، اس حملے میں جہاز پر سوار عملے کا ایک بھارتی شہری ہلاک ہو گیا جبکہ آٹھ دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن میں چار بھارتی اور دو یوکرینی باشندے شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے اثاثوں کا دفاع کرنے کا پورا حق حاصل ہے اور وہ ایران کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
دوسری طرف، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے سرکاری ٹی وی پر بیان دیا ہے کہ یہ دونوں جہاز قانون توڑ رہے تھے اور ”امریکا کے بہکاوے میں آ کر“ اپنے نیویگیشن (راستہ بتانے والے) سسٹم بند کر کے عمانی سمندری حدود سے گزر رہے تھے۔
ایران کا کہنا ہے کہ بار بار خبردار کرنے کے باوجود جب یہ جہاز نہ رکے تو ان پر حملہ کر کے انہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔
اس کے ساتھ ہی ایران نے بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈے ’الجفیر‘ پر بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے جہاں ہتھیاروں کے گودام اور امریکی فوجیوں کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
.png)
15 hours ago
2






English (US) ·