Times of Pakistan

امریکا کو جنگ بندی پر ایران کا جواب آج ملنے کا امکان

48 minutes ago 1
ARTICLE AD BOX

امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق واشنگٹن ایران کے جنگ بندی سے متعلق مؤقف کا انتظار کر رہا ہے۔

امریکا نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ ایران آج جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنی نئی سفارتی تجویز پر باضابطہ ردعمل دے گا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اسی دوران خلیج اور آبنائے ہرمز کے حساس آبی راستوں میں صورتِ حال بدستور کشیدہ ہے، جہاں امریکی اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپوں اور حملوں کے تبادلے کی اطلاعات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ْرائٹرز‘ کے مطابق امریکا نے کہا ہے کہ اسے توقع ہے کہ ایران آج جنگ کے خاتمے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر ردعمل دے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج اور آبنائے ہرمز کے اطراف کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عسکری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے روم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے جواب کا منتظر ہے اور امید ہے کہ تہران کا مؤقف ایسا ہوگا جو باضابطہ اور سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار کرے گا۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تہران ابھی تک امریکی تجویز پر کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا اور معاملہ تاحال زیر غور ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو اس حوالے سے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق ایران اپنی رائے ثالث ملک پاکستان کو پہنچائے گا، جو اس عمل میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اسی دوران ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایرانی افواج اور امریکی بحری جہازوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کشیدگی کے دوران متعدد واقعات پیش آئے جن میں دونوں جانب سے ایک دوسرے پر کارروائیاں کی گئیں۔

امریکی فوج کے مطابق اس نے ایران سے منسلک دو مزید بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو ایرانی بندرگاہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ امریکی بیان میں کہا گیا کہ لڑاکا طیارے نے ان جہازوں کے انجن حصوں پر حملہ کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔

ادھرایران نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے خلیج عمان میں ایک کارروائی کے دوران ’اوشن کوئی‘ نامی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، جس پر ایرانی تیل کی برآمدات میں خلل ڈالنے اور قومی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگرچہ خطے میں جھڑپیں جاری ہیں، تاہم ایران کے ساتھ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق امریکی بحری جہازوں پر حملوں کا جواب دیا گیا، لیکن صورتِ حال مکمل جنگ کی طرف نہیں بڑھی۔

دوسری جانب ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق خلیج کے مختلف علاقوں میں امریکی اور اتحادی اہداف پر جوابی کارروائیاں بھی کی گئی ہیں۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ایران کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور ہر بار جب سفارتی حل قریب ہوتا ہے تو امریکا فوجی کارروائی کی طرف چلا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باوجود ایران کا مؤقف واضح ہے۔

عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اکثر اس وقت فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے جب تنازع کے حل کے لیے سفارتی پیش رفت سامنے آ رہی ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف مذاکرات کو نقصان پہنچاتا ہے بل کہ خطے میں عدم استحکام کو بھی بڑھاتا ہے۔

انھوں نے اس سے قبل بعض امریکی دعوؤں کو بھی مسترد کیا اور کہا کہ ایران کی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اعداد و شمار غلط پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کی دفاعی تیاری پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ کسی بھی جنگ بندی یا مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایران پر عائد غیر قانونی پابندیوں اور بحری دباؤ کے خاتمے سے مشروط ہوگا۔

’رائٹرز‘ کے مطابق امریکی تجویز پر امریکا کو توقع ہے کہ پہلے جنگ بندی کو حتمی شکل دی جائے گی اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز سے متعلق حساس معاملات پر مذاکرات ہوں گے۔ تاہم ایران کی جانب سے تاحال اس منصوبے پر کوئی حتمی فیصلہ یا ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔

Read Entire Article