ARTICLE AD BOX
اس سے قبل منگل کی رات بھی امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً 7 گھنٹے تک جاری رہنے والے حملوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا تھا
شائع 15 جولائ 2026 04:26pm
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے بدھ کی صبح ایران کے خلاف حملوں کا نیا سلسلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کردیا ہے۔
امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق بدھ کی صبح امریکی وقت کے مطابق 6 بجے ایران میں نئے حملے کیے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ حملے ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں جنہیں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔
اس سے قبل منگل کی رات بھی امریکا نے ایران کے مختلف علاقوں میں تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والے حملوں میں درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔
امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ایران پر دوبارہ نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کے دوران کی گئیں۔ انہی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں شروع ہو گئیں۔
مختلف ممالک، جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں، وہاں ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے جنگ بندی کے لیے ہونے والا عبوری معاہدہ مزید کمزور پڑ گیا۔
بدھ کی صبح بحرین اور کویت میں میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کیے گئے۔ حکام کے مطابق ایران کی جانب سے آنے والے ممکنہ حملوں کے باعث شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسے الرٹس روزانہ کی بنیاد پر جاری کیے جا رہے ہیں، جس سے خطے میں جاری جنگ بندی مزید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن آئی آر آئی بی کے مطابق پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے این ایس آئی مینجمنٹ سینٹر، کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر، اہم فوجی سازوسامان کے گوداموں اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
تاہم اس دعوے پر امریکا یا بحرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا اور نہ ہی ان حملوں سے ہونے والے ممکنہ نقصان کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہو سکی ہے۔
.png)
1 hour ago
2






English (US) ·