ARTICLE AD BOX
ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں نرمی پاک ایران تعلقات کا نیا دور ثابت ہوسکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے پاس کیا آپشنز ہیں؟
پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روز تک جاری رہنے والی جنگ رکوا کر دنیا کو عالمی امن اور تجارت کی بحالی کا شاندار تحفہ دیا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران پاکستان نے بطور ثالث کئی محاذوں پر کامیابیاں سمیٹیں۔ فریقین کے درمیان جنگ بندی یقینی بنائی، پھر اسلام آباد میں مذاکرات کی بیٹھک سجائی، عرب ممالک اور ایران کو قریب لایا اور بالاخر ان تمام محاذوں پر اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ کر کے پاکستان کو کیا حاصل ہوا اور مزید کیا کچھ حاصل ہوسکتا ہے۔
امریکا اور ایران نے جمعرات کے روز ’اسلام آباد میمورنڈم‘ پر دستخط کیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ڈیجیٹل میمورنڈم پر جنیوا جب کہ مسعود پزشکیان نے تہران میں بیٹھ کر دستخط کیے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث اسلام آباد میں اس دستاویز پر دستخط کرکے توثیق کی۔ جس کے بعد اب دونوں ملک حل طلب مسائل پر سر جوڑ کر بیٹھیں گے اور 60 روز کے اندر کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔
اٹھائیس فروری کو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ شروع ہوئی تھی جس نے ہزاروں جانیں لیں، کئی اہم تنصیبات کو کھنڈر بنایا اور عالمی توانائی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ملک ایران پر جوابی حملے کرسکتے ہیں اور یہ تنازع تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
یہیں سے پاکستان کا ’امن مشن‘ شروع ہوا۔ پاکستان نے بیک وقت دو محاذ سنبھالے، جس میں پہلا امریکا اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی جب کہ دوسرا ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کسی بھی جھڑپ کو روکنا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ثالثی کے اس پورے عمل میں بھرپور کردار کیا۔ اس دوران کئی ایسے مواقع آئے جب ایسا محسوس ہوا کہ یہ مشن ناکام ہو جائے گا مگر بظاہر خاموشی سے چلنے والے سفارتی رابطوں، متعدد رکاوٹوں اور بار بار تعطل کے خدشات کے باوجود اسلام آباد نے امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر موجود رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں اور کامیاب ثالثی کی بدولت دیرینہ دشمن سمجھے جانے والے امریکا اور ایران 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر متفق ہوچکے ہیں ۔
دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی، اس کے بعد مذاکرات کی میز پر اکٹھا بٹھانے سے لے کر مفاہمتی یادداشت اور پھر تعطل کا شکار معاملات پر بات چیت کے لیے رضامندی، یہ وہ تاریخی سنگ میل ہے جس نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید بلند اور اس کا امیج ایک کمزور ملک کے بجائے ایک ذمہ دار اور معتبر سفارت کار کے طور پر اجاگر کیا۔
یوں ماضی میں افغان جنگ کے باعث دہشت گردی، معاشی مسائل اور بھارتی پروپیگنڈے کی وجہ سے سفارتی محاذ پر تنہا قرار دیا جانے والے ملک ’پاکستان‘ کی مثالی سفارت کاری کے آج دنیا بھر میں چرچے ہیں۔
میمورنڈم پر دستخط کے بعد اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت دنیا بھر کے رہنما پاکستان کے زبردست کردار کی تعریف کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ’شکریہ پاکستان‘ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ یہی نعرے جنگ رکوانے پر پہلے ایرانی پارلیمنٹ میں سنائی دیے تھے اور اب خود کو ’پیس میکر‘ قرار دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے کوششوں پر پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا ہے۔
پاکستان کی ایک اور کامیابی یہ ہے کہ اس سے قبل عالمی تنازعات یا اہم مذاکرات کی میزبانی کے لیے دوحہ، جنیوا یا یورپی دارالحکومتوں کا نام سامنے آتا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ایران اور امریکا کے وفود 50 سال بعد اسلام آباد پہنچے، دنیا بھر کے میڈیا کی ہیڈلائنز میں اسلام آباد کے تذکرے ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت کو ’اسلام آباد‘ سے منسوب کیا گیا۔
پاکستان کی اس غیر معمولی سفارتی کامیابی پر بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کو ’مخلص‘ اور ’غیر جانبدار ثالث‘ کا خطاب دیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ اس جنگ سے دنیا بھر میں توانائی بحران پیدا ہوا اور تجارتی منڈیاں شدید متاثر ہوئیں۔ مگر پاکستان واحد ملک تھا جو ذاتی مفاد کے بجائے جنگ رکوانے کے لیے متحرک نظر آیا۔
اب چوں کہ یہ عمل کامیابی سے مکمل ہوچکا ہے کہ تو یہ گمان رکھا جاسکتا کہ پاکستان کو اپنی ان مخلصانہ کوششوں کے دور رس نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔
اگر معاہدے کے مطابق ایران پر عائد عالمی پابندیوں میں نرمی ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست فائدہ پاکستان کو بھی ہوگا۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی 2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان قانونی تجارت کا حجم تقریباً 2.3 ارب ڈالر ہے جب کہ غیر قانونی طریقے سے تجارت کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔
پاکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ اور ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے درمیان 18 جون کو اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تجارت کو ہنگامی بنیادوں پر 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاک ایران دیرینہ تعلقات کی تاریخ کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ایران پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد موجود ہے جو شمال میں افغانستان، ایران اور پاکستان کے مشترکہ سرحدی نقطے (کوه ملک سیاہ) سے شروع ہو کر جنوب میں بحیرہ عرب (خلیج عمان) تک جاتی ہے۔
پاکستان اپنے زرِمبادلہ کا ایک بڑا حصہ تیل سمیت پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کرتا ہے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے پاکستان تقریباً 80 سے 85 فیصد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات سعودی عرب، قطر اور دیگر خلیجی ممالک سے منگواتا ہے تاہم ایران پاکستان کی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سستا اور قریب ترین متبادل ثابت ہوسکتا ہے۔
ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے وہ براہ راست تجارت کے بجائے غیر روایتی طریقوں سے دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کرتا ہے۔
پاکستان کے مختلف علاقوں میں اس وقت بھی ایرانی پیٹرول اور ڈیزل اسمگل ہو کر آتا ہے جو بہت سستا فروخت ہوتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت شروع ہونے سے اسمگلنگ کی روک تھام کے علاوہ مہنگے سمندری کرایوں (شپنگ کوسٹ) کی بھی بچت ہوسکتی ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان ’پاک ایران گیس پائپ لائن‘ کی صورت میں ایک اہم ترین منصوبہ پہلے سے موجود ہے۔ یہ منصوبہ 2009 میں پیپلزپارٹی کے دورِ حکومت میں شروع ہوا تھا، ایران اپنے حصے کی پائپ لائن پہلے ہی مکمل کرچکا تھا تاہم امریکی اور عالمی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان کی حدود میں پائپ لائن تعمیر نہیں ہوسکی اور یہ منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا۔
امریکی پابندیاں ہٹنے کے بعد اگر یہ پائپ لائن مکمل ہوجاتی ہے تو پاکستان قطر سے آنے والی مہنگی ’ایل این جی‘ کے بجائے ایران سے سستی قدرتی گیس حاصل کر سکے گا، جس سے گیس بحران پر قابو پانا ممکن ہوجائے گا۔
پاکستان اور ایران نے سرحد پر دونوں جانب آباد لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور اسمگلنگ روکنے کے لیے 6 جوائنٹ بارڈر مارکیٹس قائم کر رکھی ہیں، جسے اب دونوں جانب سے وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کراچی شہر میں بھی کئی مقامات پر ایرانی اشیاء دستیاب جو معیاری ہونے کے علاوہ کم قیمت بھی ہیں۔
دونوں ملک اس وقت دو طرفہ تجارت بین الاقوامی بینکنگ چینلز کے بجائے چیمبرز آف کامرس کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے تحت کر رہے ہیں۔ تجارتی اشیاء میں چاول، پھل، سبزیاں اور ادویات شامل ہیں، جن کی خرید و فروخت ایک خاص مانیٹرنگ اور بارٹر سسٹم کے تحت ہوتی ہے۔
ایران پر عائد پابندیاں ختم ہونے اور بینکنگ چینلز کی بحالی کے بعد پاکستانی اور ایرانی تاجروں کے لیے براہِ راست تجارت کے راستے کھل سکتے ہیں جس سے حکومت کو ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے کا ریونیو حاصل ہوسکتا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے کے شعبوں میں بھی شراکت داری کے کئی مواقع موجود ہیں، جو مقامی اور عالمی سطح پر گیم چینجر ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان منصوبوں میں ایک کوئٹہ–تفتان لائن (ایم ایل 4) ہے۔ یہ ٹریک پاکستان کے تفتان بارڈر سے ہوتا ہوا ایران کے شہر زاہدان تک جاتا ہے۔
ماضی میں اس ٹریک پر باقاعدہ مسافر ٹرین چلتی رہی ہے جو خاص طور پر ایران اور عراق جانے والے پاکستانی زائرین اور سرحدی تاجروں میں انتہائی مقبول تھی، تاہم سیکیورٹی رسک اور ٹریک کی ابتر حالت کی وجہ سے اس سروس کو 2008 میں بند کر دیا گیا تھا۔
حال ہی میں پاکستان اور ایران نے 18 سال بعد اس ریلوے روٹ کو دوبارہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر یہ روٹ مکمل طور پر فعال ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان، ایران، ترکیہ اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ایک تجارتی راہداری اور زمینی تجارت کو بھی نئی رفتار مل سکتی ہے۔
پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان اگست 2009 میں ایک تاریخی کارگو ٹرین منصوبے کا آغاز ہوا تھا، جسے اسلام آباد تہران استنبول (آئی ٹی آئی) ٹرین کا نام دیا گیا تھا۔
یہ ٹرین اسلام آباد سے استنبول تک تقریباً ساڑھے 6 ہزار کلومیٹر کا طویل فاصلہ 11 سے 15 دنوں میں طے کرتی ہے۔ یہی فاصلہ سمندری راستے سے تقریباً 21 سے 25 دنوں میں مکمل ہوتا ہے۔
اس ٹریک کا تقریباً 1900 کلومیٹر کا ٹریک پاکستان، 2600 کلومیٹر ایران اور 2000 کلومیٹر کا حصہ ترکیہ میں واقع ہے۔ اسلام آباد سے یہ ٹرین کوئٹہ اور تفتان کے راستے ایران میں داخل ہوتی ہوئی تہران کے راستے استنبول پہنچتی ہے۔
آئی ٹی آئی ٹرین نے پہلا کامیاب سفر 2009 میں کیا تھا تاہم اس کے بعد کچھ تکنیکی اور کچھ سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے یہ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔ دسمبر 2021 میں اس سروس کو دورہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہ ٹرین پاکستان سے تجارتی سامان لے کر ایران سے ہوتی ہوئی کامیابی سے انقرہ پہنچی تھی۔
امریکا اور پاکستان میں قربتوں کا نیا دور
حالیہ برسوں میں دنیا نے اسلام آباد کا ایک نیا روپ دیکھا ہے جس کی بدولت پاکستان دنیا کی توجہ کا محور اور مرکز بن چکا ہے۔ ایران امریکا مذاکرات میں کامیاب ثالثی کے بعد پاکستان کے پاس معاشی فوائد سمیٹنے کے کیا امکانات موجود ہیں، اس کا جائزہ لینے سے پہلے ماضی پر نظر دوڑانا ضروری ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک ایسے چیلنجز سے دوچار رہی جنہوں نے اس کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید متاثر کیا۔ افغان جنگ کے اثرات، سرحدی اور معاشی مسائل کے سبب پاکستان کو عالمی سطح پر کئی مسائل اور الزامات کا سامنا رہا۔ اس میں بڑی حد تک بھارتی پروپیگنڈے کا عمل دخل بھی شامل تھا۔
بھارت کی تمام کوششوں اور پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہر تقریر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔ پاکستان واشنگٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی گُڈ بُک تک کیسے پہنچا؟ اس سفر کو سمجھنے کے لیے ماضی میں جانا ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ صدر بننے سے قبل جو بائیڈن حکومت کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کافی سرد مہری اور اتار چڑھاؤ آتے رہے تھے۔ اگست 2021 میں جب امریکی فوج افغانستان سے انخلا کی تیاری میں مصروف تھی، کابل ایئرپورٹ کے ایبی گیٹ پر ایک خودکش دھماکہ ہوا جس میں 13 امریکی فوجی اور 170 افغان شہری موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔
جنوری 2025 میں دوسری مرتبہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد جب صدر ٹرمپ کانگریس سے پہلے خطاب کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں نے انتہائی مطلوب دہشت گرد اور ’ایبی گیٹ اسکینڈل‘ کے ماسٹر مائنڈ شریف اللہ نامی افغان شہری کو پاک افغان سرحدی علاقے سے گرفتار کیا اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد امریکی حکام کے حوالے کر دیا۔
اگلے ماہ جب صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس سے اپنا پہلا خطاب کیا تو اسی تقریر میں انہوں نے ایبی گیٹ واقعے کے ماسٹرمائنڈ کی گرفتاری میں مدد کرنے پر پاکستان کی تعریف اور خصوصی شکریہ ادا کیا۔
یہ کافی عرصے بعد کسی امریکی صدر کی جانب سے پاکستان کے لیے عوامی سطح پر کہے گئے غیر معمولی اور تعریفی کلمات تھے اور یہیں سے پاکستان کی بین الاقومی سطح پر ایک نئی شناخت کا سفر شروع ہوا۔
صدر ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی ’میک امریکا گریٹ اگین‘ کے نعرے کے تحت مختلف ممالک کی مصنوعات پر بھاری ٹیکسز عائد کیے، جس میں چین بھی شامل تھا جو دنیا کی 90 فیصد سے زائد نایاب معدنیات کی مائننگ پر کنٹرول رکھتا ہے۔
ایسے وقت میں جب امریکا کو فوری طور پر ایسے ممالک کی ضرورت تھی جہاں یہ معدنیات موجود ہوں۔ پاکستان نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کو سرمایہ کاری کی پیش کش کی اور اپنے کھربوں ڈالر کے معدنیاتی خزانوں کے دروازے کھول دیے۔
ستمبر 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان کو معدنیات کے شعبے میں 50 کروڑ ڈالر (500 ملین ڈالر) مالیت کا ایک تاریخی اور بڑا معاہدہ ہوا۔
پاکستان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ اس نے دونوں سپر پاورز کی تجارتی جنگ کا حصہ بننے کے بجائے خود کو غیر جانبدار متبادل کے طور پر پیش کیا اور اس معاملے پر اپنے دیرینہ دوست چین کو بھی اعتماد میں رکھا۔
دونوں ملکوں کے درمیان خاص طور پر معدنیات (کریٹیکل منرلز)، کرپٹو کرنسی اور انسدادِ دہشت گردی (کاؤنٹر ٹیرراِزم) کے شعبوں میں تعاون پر مزید پیش رفت بھی متوقع ہے، جس کے لیے ’3Cs‘ کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی ہے۔
اس پیش رفت کے بعد پاکستان کو سفارت کاری اور انسداد دہشت گردی کے میدان میں لوہا منوانے کے بعد امریکا کے بہترین اسٹریٹیجک پارٹنر کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اگر ایران اور امریکا کے درمیان حتمی معاہدے سے اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک نئے دور کا آغاز یقینی نظر آتا ہے۔ جس میں دونوں ملکوں کے درمیان زمینی رابطوں کے علاوہ تجارت، ثقافت اور عوامی رابطوں کے منصوبے شامل ہوسکتے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے میں پاکستان کے کردار پر اسلام آباد آکر ریاستِ پاکستان اور اس کی عوام کا شکریہ ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
.png)
8 hours ago
4




English (US) ·