Times of Pakistan

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے امن اور استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی: وزیراعظم

14 hours ago 2
ARTICLE AD BOX

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی: وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے امن اور استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایک تاریخی اور اہم دن ہے، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔

قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم تکنیکی مذاکرات ہوئے، جن میں دونوں ممالک نے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے خوش آئند ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اور امریکا و ایران کے درمیان بات چیت کی بحالی میں بھی پاکستان نے مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات ممکن ہو سکے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، جو مستقبل میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری اور باہمی اعتماد کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگی۔

شہباز شریف نے خطاب میں کہا کہ آئندہ 60 روز کے دوران ایک جامع امن معاہدے کی راہ ہموار ہوگی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس سے مذاکراتی عمل کو مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک اپنے اختلافات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے ملکی سیاسی صورتحال کا بھی ذکر کیا اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا نہیں تھا بلکہ قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے معاملات پر یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کو تحقیقات کا اتنا ہی شوق ہے تو پھر تحقیقات کا آغاز 2018 سے کیا جانا چاہیے تاکہ تمام معاملات قوم کے سامنے آسکیں۔

Read Entire Article