ARTICLE AD BOX
ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان بنانے کے لیے 22 شریک کاربینک مقررہ مویشی منڈیوں میں خصوصی کیمپ قائم کریں گے، اسٹیٹ بینک
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے عید الاضحیٰ 2026 کے موقع پر ملک گیر سطح پر ”گو کیش لیس“ مہم کا آغاز کر دیا ہے جب کہ ڈیجیٹل پاکستان وژن کے تحت شروع کی گئی اس مہم کا بنیادی مقصد پاکستان بھر کی مویشی منڈیوں میں نقد رقم کے بجائے محفوظ، آسان اور ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دیا جاسکے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع پر ملک بھر کی مویشی منڈیوں میں بڑے پیمانے پر اقتصادی اور تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں، جن میں سے اکثر نقد لین دین پر انحصار کیا جاتا ہے، لین دین کے اس بڑے پیمانے کو دیکھتے ہوئے اور ڈیجیٹل مالی شمولیت بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک پچھلے چند برسوں سے اس سرگرمی کو فروغ دے دہا ہے تاکہ اس موسمی روایت کا فائدہ اٹھا کر مویشی منڈیوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کو رواج دیا جائے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ مہموں کی کامیابی کی بنیاد پر2026 میں اس اقدام کو نمایاں وسعت دی گئی ہے، گزشتہ سال اس مہم میں ملک بھر کی 54 مویشی منڈیاں شامل تھیں، جن کی تعداد اس سال 96 تک پہنچ گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ‘گو کیش لیس‘ مہم کے تحت ڈیجیٹل ادائیگیاں آسان بنانے کے لیے 22 شریک کار بینک مقررہ مویشی منڈیوں میں خصوصی کیمپ اور کیاسک قائم کریں گے تاکہ بیوپاریوں اور خریداروں کو سہولت ملے، شریک بینک مویشی فروخت کرنے والوں (بیوپاریوں)، ٹرانسپورٹرز اور متعلقہ خدمت فراہم کرنے والوں کو اکاؤنٹ کھولنے اور کیو آر کوڈ کی بنیاد پر ادائیگی کے طریقوں کے ذریعے ڈجیٹل ادائیگی کے چینلز پر شامل کریں گے۔
عید کے موقع پر لین دین کی بلند سطح کو سہل بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے لین دین یا اکاؤنٹ بیلنس کی حد میں عبوری نرمی بھی کردی ہے، جس کا اطلاق 14 مئی 2026 سے 5 جون 2026 تک ہوگا اور جہاں ممکن ہو مویشی منڈیوں اور منڈیوں کے قریبی علاقوں میں مالی خدمات تک رسائی بہتر بنانے کے لیے موبائل بینکنگ وین، اے ٹی ایم اور کیش ڈپازٹ مشینیں(سی ڈی ایم) بھی لگائی جائیں گی۔
اسٹیٹ بینک نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نقدی ساتھ رکھنے کے خطرات سے بچنے کے لیے موبائل بینکنگ ایپس اور ’راست‘ کا استعمال کریں تاکہ مالی نظام میں شفافیت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
.png)
49 minutes ago
2







English (US) ·