ARTICLE AD BOX
فرانسیسی صدر ایران کی گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد خاموش رہے، اب انہیں تشویش ہورہی ہے: ایرانی وزیرِ خارجہ
شائع 19 مارچ 2026 03:51pm
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں سے متعلق بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملوں اور شہری ہلاکتوں پر میکرون کی خاموشی افسوس ناک ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے ایران کے خلاف جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں کی ایک بار بھی مذمت نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے تہران میں ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری زہریلے اثرات سے متاثر ہوئے، میکرون اس پر خاموش رہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ فرانسیسی صدر نے ایران کی گیس تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم ایران کی جوابی کارروائی کے بعد انہیں تشویش ہونے لگی ہے، انہوں نے کہا کہ یہ طرزِ عمل افسوس ناک ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا یہ بیان فرانسیسی صدر کے بیان کے بعد سامنے آیا جس میں فرانسیسی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران اور قطر میں گیس تنصیبات پر حملوں پر امیرِ قطر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی ہے اور شہری تنصیبات، خصوصاً توانائی اور پانی کی سہولیات کو نشانہ بنانے سے اجتناب پر زور دیا ہے۔
میکرون نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ شہری آبادی اور ان کی بنیادی ضروریات کے ساتھ ساتھ توانائی کی فراہمی کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے اور فوجی کشیدگی سے انہیں محفوظ رکھا جانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ 20ویں روز میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دونوں جانب سے حملوں کا دائرہ وسیع ہو کر خطے کی اہم توانائی تنصیبات تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران جنگ اب کئی محاذوں تک پھیل چکی ہے، جس میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایرانی اعلیٰ عہدیداران کی ٹارگٹڈ کلنگ اور اہم توانائی تنصیبات پر حملے شامل ہیں۔
اسرائیل نے 19 مارچ کو ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، جو دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ تصور کی جاتی ہے۔ اس حملے کے چند گھنٹوں بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تیل و گیس تنصیبات پر میزائل داغے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے میزائلوں نے قطر کے راس لفان انڈسٹریل سٹی کو نشانہ بنایا، جہاں آگ بھڑک اٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں عالمی سطح پر گیس کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے جواب میں خلیجی ممالک کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا، جس پر چند گھنٹوں بعد عمل بھی کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی گیس فیلڈ پر حملے کے بعد کہا کہ اسرائیل نے غصے میں ایران کی اہم گیس فیلڈ کو نشانہ بنایا، اگر ایران جوابی کارروائی نہیں کرتا تو اسرائیل مزید ایسے حملے نہیں کرے گا۔
ساتھ ہی ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے قطر پر حملے جاری رکھے تو امریکا پارس گیس فیلڈ کو پوری طرح سے تباہ کر سکتا ہے۔
.png)
1 hour ago
2





English (US) ·