ARTICLE AD BOX
غیر قانونی نگرانی اور فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی کے رکن بھی اسرائیلی ساختہ پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے ہیکنگ کا نشانہ بن گئے۔
شائع 04 جولائ 2026 01:00pm
کینیڈا کے تحقیقاتی ادارے سیٹیزن لیب نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن اسٹیلیوس کولوگلو، جو غیر قانونی نگرانی اور فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی خصوصی کمیٹی کے رکن تھے، خود بھی اسرائیلی ساختہ پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے ہیکنگ کا نشانہ بنے۔ جس سے دنیا بھر میں نگرانی کے جدید سافٹ ویئر کے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق سیٹیزن لیب کی رپورٹ بتاتی ہے کہ یونان سے تعلق رکھنے والے سابق ٹی وی صحافی اور بعد ازاں رکن پارلیمنٹ بننے والے اسٹیلیوس کولوگلو کے آئی فون کو اکتوبر 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان کم از کم تین مرتبہ پیگاسس اسپائی ویئر کے ذریعے ہیک کیا گیا۔ یہ سافٹ ویئر اسرائیلی کمپنی این ایس او گروپ تقسیم کرتی ہے اور دنیا کے جدید ترین نگرانی کے آلات میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جس وقت یہ ہیکنگ کی گئی، اسٹیلیوس کولوگلو یورپی پارلیمنٹ کی پیگا کمیٹی کے رکن تھے۔ یہ کمیٹی 2022 میں یورپی یونین کے مختلف ممالک میں فون ہیکنگ اور سپائی ویئر کے مبینہ غیر قانونی استعمال کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی تھی۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یورپی یونین کے مختلف ممالک میں حکومتوں نے کسی نہ کسی حد تک اسپائی ویئر استعمال کیا، جن میں کچھ معاملات قانونی تھے جبکہ بعض پر قانونی اور اخلاقی سوالات اٹھائے گئے۔
اسٹیلیوس کولوگلو نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید حیرت ہوئی کہ پیگا کمیٹی کے ایک رکن کو بھی پیگاسس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ اس معاملے میں ملوث افراد اس حد تک بے پرواہ ہوں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیٹیزن لیب نے یہ تعین نہیں کیا کہ پیگاسس استعمال کرنے والا فریق کون تھا، تاہم بعض ہیکنگ سرگرمیوں کا تعلق ان پہلے سے سامنے آنے والے واقعات سے جوڑا گیا ہے جن میں جلاوطن روسی اور بیلاروسی صحافیوں اور کارکنوں کی نگرانی کے لیے بھی پیگاسس کے استعمال کے شواہد ملے تھے۔
تحقیقی ادارے کے مطابق اسٹیلیوس کولوگلو کو ممکنہ طور پر ایپل کے سافٹ ویئر میں موجود ایک ایسے سکیورٹی نقص کے ذریعے نشانہ بنایا گیا جو اس وقت تک معلوم نہیں تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایپل نے 2023 اور 2024 کے دوران انہیں متعدد بار ریاستی سرپرستی میں ہونے والی ہیکنگ کی کوششوں سے متعلق انتباہی پیغامات بھی بھیجے تھے۔
ایپل نے اس مخصوص معاملے پر براہ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ جس سکیورٹی خامی کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے، اسے بعد میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے ذریعے دور کر دیا گیا تھا۔ کمپنی کے مطابق وہ ممکنہ ہیکنگ کا نشانہ بننے والے صارفین کو باقاعدگی سے خبردار بھی کرتی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ نے بھی اس مخصوص کیس پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے آئی ٹی سکیورٹی ماہرین سائبر حملوں اور ممکنہ خطرات کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے مطابق 2022 سے تمام اراکین کو اسپائی ویئر کی نشاندہی کرنے والے سکیورٹی ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ گزشتہ ماہ منظور ہونے والی ایک رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ یہ سہولت پارلیمانی کام کے لیے استعمال ہونے والے تمام آلات تک بڑھائی جائے۔
دوسری جانب یورپی کمیشن نے بھی اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ این ایس او گروپ نے بھی رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
این ایس او گروپ ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی نگرانی کی ٹیکنالوجی صرف سنگین جرائم کی روک تھام اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم کمپنی پر کئی برسوں سے صحافیوں، سیاسی مخالفین، انسانی حقوق کے کارکنوں، مذہبی شخصیات اور دیگر افراد کی مبینہ غیر قانونی نگرانی میں سہولت فراہم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
امریکہ نے انسانی حقوق اور قومی سلامتی سے متعلق خدشات کے باعث 2021 میں این ایس او گروپ کو بلیک لسٹ کر دیا تھا۔ گزشتہ برس واٹس ایپ کی مالک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے بھی این ایس او کے خلاف غیر قانونی ہیکنگ کے مقدمے میں ہرجانے کا مقدمہ جیتا تھا، جبکہ گزشتہ ماہ میٹا نے الزام عائد کیا کہ کمپنی عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کی سروسز کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آئی، جس پر عدالت سے توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست بھی دائر کی گئی۔
پیگا کمیٹی کے قیام کی حامی سابق یورپی رکن پارلیمنٹ سوفی اِنٹ ویلڈ کا کہنا ہے کہ اسٹیلیوس کولوگلو کا معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ نجی کمپنیوں کے تیار کردہ سپائی ویئر کے پھیلاؤ نے نگرانی کو بے قابو بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق آج ایسی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے جہاں صحافی، شہری، وکلا، سماجی تنظیمیں اور سیاست دان سب نگرانی کے خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ اکثر یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ اس کے پیچھے کون ہے۔
.png)
11 hours ago
2




English (US) ·