Times of Pakistan

ارجنٹائن کی ورلڈ کپ میں شکست کے بعد میسی وطن کیوں نہیں لوٹے؟

7 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

شائع 21 جولائ 2026 10:26am

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں اسپین کے ہاتھوں 0-1 سے شکست کے بعد ارجنٹائن کی قومی فٹبال ٹیم وطن واپس پہنچ گئی، جہاں ہزاروں مداحوں نے سرد موسم اور بارش کے باوجود اپنے ہیروز کا شاندار استقبال کیا۔ تاہم سب کی نظریں ایک ہی کھلاڑی کو تلاش کرتی رہیں اور وہ تھے لیونل میسی، جو ٹیم کے ہمراہ ارجنٹائن واپس نہیں آئے۔

لیونل میسی کی عدم موجودگی نے شائقین میں کئی سوالات کو جنم دیا اور سوشل میڈیا پر ان کی وطن واپسی نہ ہونے کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں۔ تاہم اب اس حوالے سے مستند بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن (اے ایف اے) نے پہلے ہی اعلان کر دیا تھا کہ قومی ٹیم کے تمام کھلاڑی ایک ہی پرواز کے ذریعے ارجنٹائن واپس نہیں آئیں گے۔ میسی بھی ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جو ٹیم کے ہمراہ وطن واپس نہیں لوٹے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد لیونل میسی اور ان کے ساتھی کھلاڑی روڈریگو ڈی پال آرام کی غرض سے براہ راست میامی روانہ ہوگئے۔ دونوں کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے طویل اور تھکا دینے والے شیڈول کے بعد آرام دیا گیا ہے، جس کے باعث وہ ارجنٹائن واپس جانے والی ٹیم کا حصہ نہیں بنے۔

ذرائع کے مطابق وہ اپنے گھر پر کچھ وقت گزارنے کے بعد اپنے آبائی شہر روزاریو میں اپنے خاندان سے ملنے ارجنٹینا جائیں گے۔ ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ میسی کے علاوہ دیگر 9 کھلاڑی بھی ٹیم کے ساتھ واپس نہیں آئے اور وہ امریکی شہروں سے ہی اپنی چھٹیاں گزارنے یا اپنے کلبوں میں شامل ہونے کے لیے روانہ ہو گئے۔

39 سالہ لیونل میسی نے ورلڈ کپ فائنل میں شکست کے ایک روز بعد سوشل میڈیا پر ایک جذباتی پیغام بھی جاری کیا۔ برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق میسی نے اپنے پیغام میں لکھا، ”یہ زخم بھرنے میں وقت لگے گا۔“ تاہم انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ارجنٹائن مسلسل دوسری مرتبہ ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچا اور پوری قوم کو ایک بار پھر متحد کرنے میں کامیاب رہا۔

میسی نے اپنے پیغام میں اسپین کو فتح پر مبارک باد دیتے ہوئے ارجنٹائن کے مداحوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ٹیم کا حصہ بننے پر ہمیشہ فخر محسوس کریں گے جس نے لاکھوں لوگوں کو خوشیاں دیں اور انہیں ایک دوسرے کے قریب لانے کا باعث بنی۔

دوسری جانب ارجنٹائن کی قومی ٹیم کے کوچ لیونل اسکیلونی اور دیگر کھلاڑیوں کا بیونس آئرس پہنچنے پر ریڈ کارپٹ بچھا کر استقبال کیا گیا جبکہ فوجی بینڈ نے بھی ان کے اعزاز میں خصوصی دھنیں پیش کیں۔

شائقین کی بڑی تعداد ارجنٹائن کے پرچم اٹھائے اور نیلے اور سفید رنگ کی چھتریاں تھامے بارش میں کھڑے اپنی ٹیم کے استقبال کے لیے موجود رہی۔ شکست کے باوجود شائقین نے اپنے کھلاڑیوں سے محبت کا بھرپور اظہار کیا۔

اگرچہ ارجنٹائن مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ جیتنے میں ناکام رہا، تاہم مداحوں نے اپنی ٹیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ کئی مداحوں کا کہنا تھا کہ ٹیم نے میدان میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور انہیں اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے۔

میچ کے اختتام کے بعد دارالحکومت کے مشہور چوک اوبلیسک پر بھی ہزاروں لوگ جمع ہوئے، جہاں آتش بازی کی گئی اور ٹیم کی کارکردگی کو سراہا گیا۔ تاہم رات کے وقت چوک پر کچھ افراد اور پولیس کے درمیان معمولی جھڑپیں بھی ہوئیں، جس پر پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن، آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق 15 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

Read Entire Article