Times of Pakistan

اتنی تباہی کے باوجود ایران امریکی افواج پر تباہ کن حملے کیسے کر رہا ہے؟

1 hour ago 2
ARTICLE AD BOX

ایران جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور لگ بھگ 500 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

شائع 23 جولائ 2026 10:00am

اردن اور کویت میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں تین امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے باوجود ایران امریکا کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت کیسے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران کے خلاف جاری اس جنگ میں اب تک 18 امریکی فوجی ہلاک اور لگ بھگ 500 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد فوجی تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی فضائی حملوں کی بوچھاڑ کے باوجود ایران ایک طویل غیر متوازن جنگ لڑنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

تھنک ٹینک ڈیفنس پرائیورٹیز کی ملٹری انالسز کی ڈائریکٹر جینیفر کیواناگ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایران کی فوجی صلاحیتیں اب بھی انتہائی طاقتور ہیں اور اس نے توقع سے زیادہ تیزی سے خود کو دوبارہ منظم کیا ہے“۔

انہوں نے قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ “روس اور چین کی انٹیلی جنس مدد سے ایران کے حملے وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ درست ہوتے جا رہے ہیں۔“

انہون نے کہا کہ ”ایرانی فوج یقیناً اتنی غیر فعال نہیں ہوئی جیسا کہ پینٹاگون کا دعویٰ تھا، اسے نقصان ضرور پہنچا ہے لیکن وہ وقت کے ساتھ سیکھ کر حالات کے مطابق ڈھل رہی ہے“۔

کنگز کالج لندن کے سینئر لیکچرار اینڈریو کریگ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تعینات تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی ایسے مستقل اور غیر محفوظ اڈوں پر موجود ہیں جو ایران کے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں ہیں۔

انہون نے بتائیا کہ بہت سے اہلکار ایسی عارضی عمارتوں میں رہ رہے ہیں جو چھوٹے راکٹوں سے تو بچاؤ فراہم کر سکتی ہیں لیکن جدید بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں۔

اینڈریو کریگ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ”ایران کے لیے امریکی ملٹری کو شکست دینے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اسے صرف امریکی دفاعی نظام کو اتنی بار توڑنا ہے کہ وہ خطے میں امریکی موجودگی کو انسانی، عملی اور سیاسی لحاظ سے مہنگا ترین بنا سکے“۔

دوسری جانب امریکی سینیٹ میں وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے جب ان کے پرانے بیان پر سوالات کیے گئے تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ”ہم نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ان کے پاس حملے کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جائے گی“۔

مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے جیفرسن کیمبل کا کہنا ہے کہ امریکی قیادت نے ایران کی صلاحیتوں میں کمی کے حوالے سے حد سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا، جبکہ ایران کے پاس ایسے جدید ہتھیار اب بھی موجود ہیں جن کا استعمال اس نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں نہیں کیا تھا۔

اس کے علاوہ یونیورسٹی آف باتھ کے پروفیسر پیٹرک بیوری کا کہنا ہے کہ ایران کے ڈرونز اور میزائل امریکی دفاعی نظام اور انٹرسیپٹرز کے مقابلے میں بہت سستے ہیں، جس کی وجہ سے ایران کم لاگت میں امریکا کو اسٹریٹجک اور جانی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔

Read Entire Article