ARTICLE AD BOX
شائع 23 فروری 2026 09:48pm
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشت گرد ملوث ہیں اور جو بھی میلی آنکھ پاکستان کی طرف اٹھے گی اسے مٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں صرف دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا اور کسی بھی شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔
سینیٹ میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وفاقی وزیرطارق فضل چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی سے متعلق ٹھوس شواہد افغانستان کے حکام کے سامنے رکھے، تاہم اس کے باوجود کوئی مؤثر اور قابلِ عمل اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے اور دہشت گردوں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری رہا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔ سرحدی جھڑپوں کے بعد دوست ممالک کی مداخلت سے مذاکرات ہوئے، جن میں ایک بار پھر وہی شواہد پیش کیے گئے۔ ان کے بقول اس موقع پر 10 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ دہشت گردوں کو سرحد سے دور منتقل کیا جا سکے، تاہم اس ضمن میں کوئی واضح ضمانت نہیں دی گئی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے باوجود دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں، اسلام آباد کی مسجد میں نماز جمعہ کے وقت حملہ کیا گیا جبکہ بنوں اور باجوڑ میں خودکش دھماکے ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست محض جنازے اٹھانے تک محدود نہیں رہ سکتی، اسی لیے فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ ایئر اسٹرائیک میں 100 سے زائد دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کی سختی سے تردید کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق کارروائی میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ بزدلانہ حملوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے، ملک کے ایک ایک چپے کا دفاع کیا جائے گا اور ایک ایک قطرہ لہو کا حساب لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور شہدا کے اہل خانہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
.png)
2 weeks ago
10






English (US) ·