ARTICLE AD BOX
آیت اللہ علی خامنہ ای اوران کے خاندان کوامام رضا کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جارہا ہے
شائع 09 جولائ 2026 11:21pm
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ مشہد میں ادا کردی گئی ہے، امام رضا کے مزار کے احاطے میں نماز جنازہ آیت اللہ نوری ہمدانی نے پڑھائی، اجتماع میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔
آیت اللہ علی خامنہ ای اوران کے خاندان کوامام رضا کے مزار کے احاطے میں سپرد خاک کیا جارہا ہے، امام رضا کے مزار کے اطراف کی تمام سڑکیں سوگواروں سے بھر گئیں۔
شرکا نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم لہرا دیے جب کہ شرکا نے رہنماؤں کی تصاویر اورایرانی پرچموں کے علاوہ پاکستانی پرچم بھی تھام رکھے تھے۔
نمازجنازہ کے موقع پر بھی فضا انتقام، انتقام کے نعروں سے گونج اٹھی جب کہ جلوس جنازہ کے شرکا نے ٹرمپ ہم تمہیں ماردیں گے کا قد آوربینر تھام رکھا تھا۔
یاد رہے کہ شہید رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے بعض افراد کی میتیں لے کر خصوصی طیارہ آج صبح مشہد پہنچا تھا۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’مہر نیوز‘ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو گزشتہ 6 روز کے دوران ایران اور عراق کے مختلف شہروں میں لے جایا گیا، جہاں لاکھوں زائرین نے ان کی نمازِ جنازہ ادا کی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین مشہد میں کی جائے گی، جو ایران کا ایک مقدس شہر سمجھا جاتا ہے جب کہ ان کی خواہش کے مطابق انہیں امام رضا کے مزار کے قریب دفن کیا جائے گا۔
آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے سربراہ محمد محمدی گلپایگانی نے بتایا کہ مرحوم رہنما نے اپنی زندگی میں ہی مشہد میں تدفین کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ان کے مطابق خامنہ ای نے وصیت کی تھی کہ انہیں امام رضا کے روضے کے قریب سپرد خاک کیا جائے۔
تابوت کی منتقلی سے قبل ایران اور عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا سمیت مختلف مقامات پر تعزیتی تقریبات اور جنازے کے مراحل مکمل کیے گئے۔ ان رسومات میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کیا۔
ایرانی حکام کے مطابق 6 روز تک جاری رہنے والی یہ آخری رسومات دونوں ممالک میں عقیدت اور احترام کے ساتھ ادا کی گئیں جب کہ آج مشہد میں تدفین کے بعد یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا کے مطابق سید علی خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ کی میتیں گزشتہ شب عراق سے ایران روانہ کیے جانے سے قبل نجف اور کربلا میں آخری مذہبی رسومات ادا کی گئیں تھیں۔
نجف میں روضۂ حضرت علیؓ پر لاکھوں افراد نے نمازِ جنازہ میں شرکت کی تھی، جس کے بعد جسدِ خاکی کو کربلا منتقل کیا گیا تھا، جہاں روضۂ امام حسینؓ پر بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ کربلا میں نکالے گئے جنازے کے جلوس میں تقریباً 40 لاکھ سوگوار شریک تھے جب کہ روضۂ امام حسینؓ پر رات بھر فاتحہ خوانی، نوحہ خوانی اور مرثیہ خوانی کا سلسلہ جاری تھا تاہم اس تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوسکی۔
رپورٹس کے مطابق آج آیت اللہ خامنی ای کی مشہد میں روضۂ امام رضاؓ کے احاطے میں سرکاری اعزاز اور مذہبی رسومات کے ساتھ تدفین کی جائے گی۔ اس موقع پر ایران بھر سے لاکھوں عزاداروں کی مشہد آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
یاد رہے کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ کے جنازے کی 7 روزہ تقریبات کا آغاز جمعہ کو تہران کے امام خمینی مصلیٰ سے ہوا تھا، ہفتہ اور اتوار کو عوامی الوداع اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، پیر کو تہران، منگل کو قم میں لاکھوں افراد نے خراج عقیدت پیش کیا گیا، بدھ کو عراقی شہروں نجف اور کربلا میں نمازجنازہ ادا کی گئی۔
.png)
5 hours ago
3




English (US) ·