Times of Pakistan

آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین؛ 100 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع، ایرانی فوج ہائی الرٹ

1 day ago 3
ARTICLE AD BOX

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق مختلف ممالک کے سربراہان، وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام تقریبات میں شریک ہوں گے۔

شائع 02 جولائ 2026 08:49pm

ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے انتظامات کر رہا ہے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے ایرانی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور ملک کی سرحدوں پر پہرا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’اِرنا‘ سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرام نیا نے سیکیورٹی کے حوالے سے بتایا کہ مختلف ممالک سے آنے والے اعلیٰ حکام، مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی آمد کو محفوظ بنانے کے لیے ایرانی فورسز کی نفری بڑھا دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ زمینی، بحری اور فضائی افواج نے ملک کی سرحدوں پر سیکیورٹی بڑھا دی ہے تاکہ ہر طرح سے حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے اور ایران کی فضائی دفاعی فورس فضائی حدود کی دن رات کڑی نگرانی کر رہی ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا یہ سلسلہ چھ دنوں تک جاری رہے گا جو ایران اور پڑوسی ملک عراق کے پانچ مختلف شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ رسومات ہفتے کے دن سے شروع ہوں گی، تہران کے بڑے مصلیٰ کمپلیکس میں ان کا جسدِ خاکی رکھا جائے گا اور پیر کے دن تہران کی سڑکوں سے جنازے کو جلوس کی صورت میں گزارا جائے گا۔

اس کے بعد سات جولائی کو ان کے جسدِ خاکی کو مقدس شہر قم لے جایا جائے گا اور پھر وہاں سے عراق کے شہروں نجف اور کربلا منتقل کیا جائے گا۔ ان تمام شہروں میں رسومات کی ادائیگی کے بعد نو جولائی کو انہیں تدفین کے لیے دوبارہ ایران میں ان کے آبائی شہر مشہد لایا جائے گا۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ آخری رسومات میں سربراہانِ مملکت، پارلیمانی رہنما، وزرائے خارجہ اور مختلف ممالک کے خصوصی سرکاری نمائندے شریک ہوں گے۔

ایرانی حکام کے مطابق آخری رسومات میں روس، چین، پاکستان، بھارت، ترکی، عراق، قطر، عمان، مصر، لبنان، آذربائیجان، افغانستان، بنگلہ دیش، ملائیشیا، سری لنکا، ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آرمینیا، جارجیا، کیوبا، سربیا، تیونس، کانگو، گھانا، نمیبیا، میانمار، تھائی لینڈ، گیمبیا اور نکاراگوا سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود کی شرکت متوقع ہے۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے جمعہ کو ایران روانہ ہوں گے۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی کابینہ کے دیگر ارکان بھی ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم اپنے دورۂ ایران کے بعد ترکیہ بھی جائیں گے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ماہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران تہران کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کے ساتھ ایرانی عوام سے اظہارِ یک جہتی بھی کریں گے۔

ایرانی حکام کا اندازہ ہے کہ ان آخری رسومات میں ملک اور دنیا بھر سے تقریباً پندرہ سے بیس ملین یعنی ڈیڑھ سے دو کروڑ سوگوار شرکت کریں گے، جس کی وجہ سے پولیس کو انتہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے پہلے روز اپنے چند اہلِ خانہ سمیت شہید ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ایران کے کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور مشیران بھی شہید ہوئے تھے جن میں میجر جنرل عبدالرحیم موسوی، ریئر ایڈمرل علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور شامل تھے۔

Read Entire Article