Times of Pakistan

آرکٹک پر بمباری، سمندر پر بند اور نیا چاند؛ دنیا کا موسم بدلنے کے پانچ پاگل پن سے بھرے منصوبے

1 hour ago 1
ARTICLE AD BOX

اریخ کے یہ تمام قصے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ٹیکنالوجی سے موسم بدل سکتے ہیں؟

شائع 06 جولائ 2026 10:08am

دنیا میں بڑھتی ہوئی گرمی اور موسم کی تبدیلیوں سے پریشان ہو کر اب بہت سے سائنس دان یہ سوچ رہے ہیں کہ زمین کو بچانے کے لیے اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر ٹیکنالوجی کا سہارا لینا پڑے گا، اور اس کے لیے ماضی میں پانچ ایسے منصوبے بھی سامنے آئے تھے جنہیں پاگل پن سے بھرا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔

صدیوں سے انسان زمین کو اپنی مرضی سے بدلنے کے بڑے بڑے اور حیران کن منصوبے بناتا رہا ہے جو اجداد کی نظر میں عقل سے باہر لگتے ہیں۔

ایٹلانٹروپا پلان

انہی میں سے ایک جرمن انجینیئر ہرمن سورگل کا منصوبہ تھا جس نے سن 1930 کی دہائی میں مشورہ دیا کہ افریقہ اور یورپ کے درمیان بحیرہ روم پر ایک بہت بڑا بند یعنی ڈیم بنا دیا جائے۔ اس منصوبے کا ’ایٹلانٹروپا پلان‘ نام دیا گیا تھا۔

ان کا خیال تھا کہ اس سے سمندر کا پانی دو سو میٹر نیچے چلا جائے گا اور کھیتی باڑی کے لیے لاکھوں ایکڑ نئی اور زرخیز زمین نکل آئے گی، جس پر افریقہ کے مزدور کام کریں گے۔

اس منصوبے کو اتنا پسند کیا گیا کہ بڑے انجینیئروں نے ڈیم کے نقشے بھی بنا لیے، اور یہ عجیب و غریب منصوبہ سن 1960 کی دہائی تک زیرِ بحث رہا۔

افریقہ اور یورپ کے درمیان بحیرہ روم پر ایک بہت بڑا بند یعنی ڈیم بنانے کا منصوبہ

روس کا اسٹالن منصوبہ

دوسری طرف، روس کے لوگ ہمیشہ اپنے سرد موسم سے پریشان رہتے تھے۔ امریکا کے ماہرِ موسمیات پی ای لائڈولف نے ایک بار کہا تھا کہ روس کے پاس گرمی کی کمی ہے۔

روسی انجینئر پی ایم بوریسوف کے پاس اس مسئلے کا ایک حل تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ بس زمین کے درجہ حرارت کو دو ڈگری بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ کام آبنائے بیرنگ پر ایک ڈیم بنا کر کیا جا سکتا ہے، جس سے قطب شمالی کی برف پگھل جائے گی۔

آبنائے بیرنگ پر ایک ڈیم بنانے کا منصوبہ

یہ ایک بہت بڑا کام تھا اور دوسرے روسی سائنس دانوں نے اس کے جواب میں کہا کہ یہی فائدہ تھامسن وائیول رج میں ایک سوراخ کر کے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس کے لیے سمندر کی ایک کلومیٹر سے زیادہ گہرائی میں بس تین ہزار مربع کلومیٹر کی سطح کھودنی پڑتی۔

اس طرح کی سوچ سنہ 1948 میں سامنے آنے والے ”فطرت کو بدلنے کے عظیم اسٹالن منصوبے“ کا حصہ تھی، جس میں روسی ماحول کو زیادہ کارآمد اور رہنے کے قابل بنانے کے لیے بڑے بڑے انجینئرنگ کاموں پر غور کیا گیا تھا۔

سنہ 1953 میں اسٹالن کی موت کے کئی دہائیوں بعد بھی ان خیالات پر سنجیدگی سے بحث ہوتی رہی، حالانکہ ماہرینِ معاشیات نے اس پر آنے والے بھاری اخراجات پر اعتراض بھی کیا۔

دنیا کو بچانے کے لیے ایٹمی دھماکے

جب دنیا میں ایٹم بم ایجاد ہوا، تو لوگوں کو لگا کہ اس سے ہر کام ہو سکتا ہے۔ امریکی موسمیاتی ادارے کے سربراہ ہیری ویکسلو نے مشورہ دیا کہ اگر قطب شمالی کی برفانی چادر پر دس ہائیڈروجن بم گرا دیے جائیں تو وہاں ہمیشہ کے لیے گرمی کا بہترین موسم آ جائے گا۔

روس نے تو دریاؤں کا رخ موڑنے کے لیے سچ مچ تین ایٹم بم دھماکے کر ڈالے تھے، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اتنے بڑے دھماکوں سے صرف سات سو میٹر کی نہر ہی صاف ہو سکی اور اوپر سے خطرناک شعاعیں یعنی ریڈی ایشن بھی پھیل گئی، جس کی وجہ سے کام روکنا پڑا۔

روس نے تو دریاؤں کا رخ موڑنے کے لیے سچ مچ تین ایٹم بم دھماکے کر ڈالے تھے

دوسرا چاند

بات یہیں ختم نہیں ہوتی، سن 1990 کی دہائی میں روس نے آسمان پر ایک دوسرا چاند بنانے کا تجربہ بھی کر ڈالا۔

ان کا منصوبہ یہ تھا کہ فضا میں چمکدار شیشے والے سیٹلائٹ بھیجے جائیں جو سورج کی روشنی کو رات کے وقت روس کے اندھیرے اور سرد علاقوں پر پھینکیں تاکہ وہاں دن کا وقت لمبا ہو جائے اور بجلی کی بچت ہو۔

اس منصوبے کو ’پروجیکٹ زنامیا‘ نام دیا گیا تھا۔

روس کا منصوبہ یہ تھا کہ فضا میں چمکدار شیشے والے سیٹلائٹ بھیجے جائیں جو سورج کی روشنی کو رات کے وقت روس کے اندھیرے اور سرد علاقوں پر پھینکیں۔

پہلے تجربے میں انہوں نے پانچ کلومیٹر کے علاقے کو روشن بھی کیا، لیکن جب دوسرا سیٹلائٹ خلائی اسٹیشن میں پھنس گیا اور روس کے پاس پیسے ختم ہو گئے، تو یہ کام بھی بند کرنا پڑا۔

نئے پہاڑ بنانے کا منصوبہ

ادھر آسٹریلیا میں لوری ہوگن نامی شخص کا ماننا تھا کہ قدرت نے آسٹریلیا کو پہاڑ دینے میں کنجوسی کی ہے، کیونکہ وہاں پہاڑ صرف ایک کنارے پر ہیں اور باقی سارا ملک تپتا ہوا ریگستان ہے۔

انہوں نے سن 1989 میں ایک کتاب لکھی جس میں مطالبہ کیا کہ ملک کے دوسرے کونے پر دو ہزار کلومیٹر لمبا اور چار کلومیٹر اونچا ایک نیا پہاڑ خود بنایا جائے۔

جب عوام نے ان کا ساتھ نہیں دیا تو انہوں نے الیکشن کے لیے سیاسی پارٹی بھی بنا لی۔

بعد میں جب حساب لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ اس پہاڑ کو بنانے کے لیے اتنے پتھر اور مٹی چاہیے جتنی انسان نے پوری تاریخ میں آج تک کبھی نہیں کھودی۔

اب تاریخ کے یہ تمام قصے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ٹیکنالوجی سے موسم بدل سکتے ہیں یا پھر ہمیں اسی بدلتے ہوئے سخت موسم کے ساتھ جینا سیکھنا پڑے گا۔

Read Entire Article