ARTICLE AD BOX
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انکشاف کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری تصادم کے نتیجے میں 10 سویلین ملاح مارے گئے ہیں۔
مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکا اس وقت آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے نئی تعیناتیاں کر رہا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ پروجیکٹ فریڈم کا مقصد لوگوں کو بچانا ہے نہ کہ کسی پر حملہ کرنا، کیونکہ مختلف ممالک کے پھنسے ہوئے جہازوں کے عملے کی زندگیوں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز جیسی عالمی گزرگاہ پر کنٹرول کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی اور اسے حقیقت تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔
مارکو روبیو نے بتایا کہ جیرڈ کشنر اور وٹکوف مذاکرات کے عمل پر کام کر رہے ہیں، جبکہ آپریشن ایپک فیوری مکمل کر کے اس کے تمام مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بھی نیوز کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ سیز فائر فی الحال برقرار ہے اور امریکا جنگ کا خواہشمند نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے تمام پتے صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہیں اور اب یہ ایران پر منحصر ہے کہ وہ کب معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے تنبیہ کی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکی افواج کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے مکمل تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ہم سے زیادہ آبنائے ہرمز کی ضرورت ہے اور صدر ٹرمپ جلد ہی دیگر ممالک کو بھی اس حوالے سے ذمہ داریاں سونپ دیں گے تاکہ عالمی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔
امریکی وزیر جنگ نے امید ظاہر کی کہ جنوبی کوریا بھی جلد آپریشن فریڈم کا حصہ بن جائے گا، کیونکہ اس وقت ہرمز سے نکلنے کے لیے ایک محفوظ راستہ فراہم کر دیا گیا ہے۔
.png)
2 hours ago
2





English (US) ·