ARTICLE AD BOX
اسرائیلی وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ امریکی نائب صدر نے ایران مذاکرات کی ناکامی پر بریفنگ دی۔
شائع 13 اپريل 2026 05:18pm
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی کے اعلان کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے امن مذاکرات کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کاابینہ اجلاس کے آغاز پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس معاملے پر امریکا کے ساتھ کھڑا ہے اور واشنگٹن کے فیصلوں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران طے شدہ نکات پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث صورت حال مزید کشیدہ ہوئی۔
بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ہونے والے ایران سے مذاکرات کے بعد ٹیلی فون پر بریفنگ دی ہے، جو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے تحت جنگ بندی اور آبنائے کھولنے پر اتفاق ہونا تھا، تاہم ایران نے اس پر عملدرآمد نہیں کیا، جس کے بعد امریکا کو بحری ناکہ بندی کا فیصلہ کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ایران کے تمام افزودہ مواد کا خاتمہ اور آئندہ کئی برسوں تک یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق یہ معاملہ اسرائیل کے لیے بھی نہایت اہم ہے اور دونوں ممالک اس حوالے سے یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امریکی اقدامات کی کھل کر حمایت خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
.png)
2 weeks ago
5




English (US) ·