ARTICLE AD BOX
یہ جہاز جنوبی ہائی وے کے راستے سفر کررہے ہیں، جو مکمل طور پر محفوظ، پرسکون اور بہترین حالت میں ہے: امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور متعدد جہاز تیل کی کھیپ لے کر اس اہم بحری گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
پیر کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جہاز حرکت کرنا شروع ہوگئے ہیں اور ان میں سے بہت سے تیل سے لدے ہوئے ہیں جو آبنائے ہرمز سے باہر آ رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ جہاز جنوبی ہائی وے کے راستے سفر کررہے ہیں، جو مکمل طور پر محفوظ، پرسکون اور بہترین حالت میں ہے جب کہ امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ جنوبی ہائی وے کے علاوہ بھی سفر کے دیگر راستے موجود ہیں تاہم انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو خطے کی بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار اسی راستے کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے سی این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق معاہدے کا متن رواں ہفتے جاری ہونے کی امید ہے جب کہ معاہدے کی تفصیلات پر مزید مذاکرات جاری رہیں گے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا کو توقع ہے کہ یہ اہم آبی گزرگاہ طویل مدت کے لیے بغیر کسی فیس کے کھلی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری توقع ہے کہ آبنائے ہرمز طویل عرصے کے لیے بغیر کسی فیس کے کھولی جائے گی تاہم اس حوالے سے اہم تکنیکی نکات پر بات چیت جاری ہے اور ہم مل کر اس کا حل نکالیں گے‘۔
نائب امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ان کا کیال ہے کہ اسرائیل میں بھی کچھ حلقے اس معاہدے کو پسند کررہے ہیں۔ جے ڈی وینس کے مطابق معاہدے پے دستخط کے موقع پر ایران کی نمائندگی ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمنٹ کے اسپیکر کریں گے جب کہ یہ تقریب جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ تقریب میں امریکا کی نمائندگی کون کرے گا۔
اس سے قبل امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو “مستقل طور پر ٹول فری” بنایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے اسرائیل کو جوہری تباہی سے بچایا گیا جب کہ اگر ایران نے حتمی جوہری معاہدے پر عمل نہ کیا تو فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خطے کی صورت حال کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گا اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت کو بغیر کسی فیس کے جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان حتمی جوہری معاہدہ طے نہ پایا تو واشنگٹن دوبارہ تہران پر حملے شروع کر سکتا ہے یا مشرق وسطیٰ میں “نگران قوت” کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، جس کے بدلے میں خطے کی آمدن کا ایک حصہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکا نے پہلے ایران پر حملے اور بعد ازاں بحری ناکہ بندی کے ذریعے خطے میں توازن اپنے حق میں کیا، ان اقدامات کے نتیجے میں موجودہ معاہدہ ممکن ہوا۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے معاہدے کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی تاہم انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض کارروائیوں نے معاہدے کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو اسرائیل چند گھنٹوں میں ختم ہو سکتا تھا، اس لیے موجودہ معاہدہ اسرائیل کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں ایران کی یورینیئم افزودگی کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کے مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ ان میں 15 سالہ پابندی سے لے کر 20 سال تک کی طویل مدت کے فریز کی تجاویز شامل ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ اس میں سے 15 سالہ انتظام کو قبول کرسکتے ہیں بشرطیکہ ایران صرف اتنی کم سطح کی افزودگی تک محدود رہے جو کبھی بھی فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوسکے۔
رپورٹ کے مطابق ابھی تک معاہدے کی مکمل تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں تاہم ابتدائی فریم ورک کے تحت آبنائے ہرمز میں عارضی طور پر 60 دن تک ٹول معطل کرنے کی تجویز شامل ہے، جس کے بعد علاقائی مذاکرات کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کے جوہری مواد کو کم کرنے اور نگرانی کے سخت نظام کے تحت رکھنے میں کردار ادا کرے گا تاہم اس پر کوئی حتمی ٹائم لائن نہیں دی گئی۔
انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے اتحادی ممالک بشمول برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور علاقائی استحکام کے لیے اسے ایک موقع قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان کئی دہائیوں کی کشیدگی کے بعد ایک نئے سفارتی فریم ورک پر پیش رفت ہو رہی ہے تاہم یورینیم افزودگی کی حد، منجمد اثاثوں کی واپسی، جنگی نقصانات کے معاوضے اور آبنائے ہرمز کی آئندہ حیثیت جیسے اہم معاملات پر ابھی مزید مذاکرات متوقع ہیں۔
.png)
1 hour ago
3







English (US) ·