ARTICLE AD BOX
حقِ رائے دہی پر شب خون یا بالغ نظری کی بحث؟ پاکستان میں ووٹر کی عمر 25 سال کرنے کی تجویز پر نیا سیاسی دنگل شروع
پاکستان کے سیاسی اور آئینی حلقوں میں ان دنوں ایک نئی بحث نے شدت اختیار کر لی ہے، جس کا مرکز حکومت کی جانب سے متوقع 28 ویں آئینی ترمیم اور اس کے تحت ووٹ ڈالنے کی قانونی عمر کو 18 سال سے بڑھا کر 25 سال کرنے کی تجویز ہے۔
نئے مالی سال کے آغاز اور عید الاضحیٰ سے کچھ دن قبل چھیڑی جانے والی اس بحث نے ملک کے سیاسی درجہ حرارت کو یکدم بڑھا دیا ہے، اور اپوزیشن سمیت سول سوسائٹی کی جانب سے اس پر شدید ردِعمل سامنے آرہا ہے۔
آئیے اس پورے معاملے کو سمجھتے ہیں کہ یہ تنازع ہے کیا اور مختلف فریقین کا اس پر کیا مؤقف ہے۔
تنازع کی شروعات اور حکومتی مؤقف
اس نئی بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے نجی ٹی وی ’جیو نیوز‘ کے ایک پروگرام ’جرگہ‘ میں متوقع 28 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت مختلف بنیادی نوعیت کے امور جیسے کہ این ایف سی ایوارڈ، آبادی کا تناسب اور پانی کی تقسیم پر مشاورت کر رہی ہے۔
اسی گفتگو کے دوران انہوں نے ووٹنگ کی عمر میں تبدیلی کی تجویز کا بھی ذکر کیا۔
رانا ثنا اللہ نے اس تجویز کے پیچھے منطق پیش کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی شخص 25 سال کی عمر سے پہلے الیکشن نہیں لڑ سکتا تو پھر الیکشن لڑنے کی عمر بھی کم کر کے 18 سال کر دینی چاہیے۔
تاہم، بعد میں انہوں نے جیو نیوز کے ہی دوسرے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 25 سال وہ عمر مانی جاتی ہے جس میں انسان کسی تنظیم کی نمائندگی کے لیے ضروری سمجھ بوجھ حاصل کر لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نمائندگی کرنا اور ووٹ ڈالنا برابر کی ذمہ داریاں ہیں۔
تاہم، رانا ثنا اللہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ صرف ایک تجویز ہے اور اسے باقاعدہ حکومتی پالیسی نہ سمجھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پر گفتگو ہو رہی ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اسے نافذ کرنے جا رہے ہیں یا میری جماعت اس کی حمایت کرتی ہے، یہ صرف ایک بحث ہے۔
دوسری طرف وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی وضاحت کی ہے کہ جب بھی کوئی آئینی ترمیم لائی جائے گی تو تمام حلیف جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا اور فی الحال 28 ویں ترمیم کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
اپوزیشن کا سخت ردِعمل
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اس تجویز کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے حکومت کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ترجمان اور سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس تجویز کو سیاسی خوف کا شاہکار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی حیرت انگیز بات ہے کہ وہی حکمران طبقہ جو 18 سال کے نوجوانوں کو ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے فوج میں بھرتی کرتا ہے، انہیں شادی کرنے، خاندان پالنے اور معیشت میں حصہ ڈالنے کی اجازت دیتا ہے، اچانک یہ دریافت کر لیتا ہے کہ یہی شہری اپنی حکومت چننے کے لیے بہت کم عمر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتخابی انجینئرنگ کی ایک کوشش ہے کیونکہ ملک کا نوجوان عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ عمر کی کوئی بھی حد مقرر کر لیں، 25، 30 یا 50 سال، پاکستان کا نوجوان پی ٹی آئی کو ہی ووٹ دے گا۔
سول سوسائٹی اور ماہرین کے خدشات
حکومت کی اس تجویز پر صرف سیاسی جماعتیں ہی نہیں بلکہ سول سوسائٹی، قانون دان اور معاشی ماہرین بھی سراپا احتجاج ہیں۔
لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے محقق اور ماہرِ معاشیات علی حسنین نے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں 18 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی تعداد لگ بھگ 3 کروڑ ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ وہ ووٹنگ کی عمر کے 23.7 فیصد حصے کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ایک جمہوریت میں ریفرنڈم کے بغیر ایسی تبدیلی ممکن نہیں ہونی چاہیے۔
اسی طرح سماجی کارکن اسامہ خلجی نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت ووٹنگ کی عمر 25 سال کرنا چاہتی ہے تو کیا 25 سال سے کم عمر نوجوانوں کو ٹیکسوں سے بھی چھوٹ دی جائے گی؟ نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں ہونا چاہیے۔
معروف قانون دان بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کی عمر 25 سال کرنا کوئی جمہوری اصلاحات نہیں بلکہ قانون کے بھیس میں آئینی اخراج ہے۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستان ’آئی سی سی پی آر‘ کے معاہدے کا حصہ ہے جو سب کے لیے برابر اور عالمی حقِ رائے دہی کا تحفظ کرتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار مسرت قدیم نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس تجویز کا مقصد بہت واضح ہے کہ نوجوانوں کے ووٹ بینک کو کم کیا جائے اور اس کا نشانہ بلاشبہ ایک مخصوص سیاسی جماعت ہے۔
حلیف جماعت پیپلز پارٹی کا مؤقف اور ابہام
حکومت کی اہم اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس معاملے پر اپنا مؤقف دیتے کہا ہے کہ آئینی ترامیم سے متعلق ان سے رسمی یا غیر رسمی طور پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ترمیم کسی ایک جماعت کے بس کی بات نہیں ہے اور ان کی اجازت کے بغیر یہ منظور نہیں ہو سکتی۔
رانا ثنا اللہ نے بھی اس حوالے سے کہا کہ ’بلاول بھٹو زرداری کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے ان کی جماعت کی حمایت ناگزیر ہے۔‘
پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ رانا ثنا اللہ جن امور کا ذکر کر رہے ہیں، ان پر کوئی باقاعدہ مشاورتی عمل یا ایجنڈا موجود نہیں ہے بلکہ یہ معمول کی انفرادی باتیں ہیں جو میڈیا پر چل رہی ہیں۔
یاد رہے کہ سال 2010 میں پیپلز پارٹی کے دور میں ہی 18 ویں آئینی ترمیم پاس ہوئی تھی جس کے تحت صوبوں کو خودمختاری دی گئی تھی، اور پیپلز پارٹی اس ترمیم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا اسے رول بیک کرنے کی کوششوں کی سخت مخالف ہے۔
پاکستان میں ووٹنگ کی عمر کا قانون کیا ہے؟
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 106(2) کے تحت اس وقت ملک میں ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے۔
سال 2002 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ووٹنگ کی عمر کو 21 سال سے گھٹا کر 18 سال کیا گیا تھا تاکہ اسے دنیا بھر کے جمہوری ممالک کے برابر لایا جا سکے۔
اب اگر موجودہ حکومت ووٹنگ کی عمر میں کوئی بھی تبدیلی کرنا چاہتی ہے، تو اس کے لیے آئین میں ترمیم کرنا ہوگی اور آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ (قومی اسمبلی اور سینیٹ) میں دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہوتی ہے، جو کہ تمام اتحادی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کے تعاون کے بغیر حکومت کے لیے حاصل کرنا ناممکن ہے۔
.png)
35 minutes ago
2






English (US) ·