Times of Pakistan

نیٹو پر تنقید کے باوجود ٹرمپ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ پہنچ گئے

2 hours ago 3
ARTICLE AD BOX

یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے

شائع 07 جولائ 2026 04:03pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔ امریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔

یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے۔ اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔

تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے۔

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اُدھر یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں۔

یورپی حکام کے مطابق انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی نیٹو پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔ رواں سال اپریل میں انہوں نے کہا تھا کہ میں نیٹو سے نکلنے پر بالکل غور کر رہا ہوں، کیونکہ مجھے اس اتحاد سے شدید ناگواری ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی نیٹو کے مشترکہ دفاع کے اصول سے امریکا کی وابستگی کی واضح توثیق کرنے سے گریز کیا تھا، جس کے بعد اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے سوالات مزید بڑھ گئے تھے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سے علیحدگی کی بات کی ہو۔ اپنے پہلے صدارتی دور میں 2018 کے دوران بھی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر دیگر رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافہ نہیں کرتے تو امریکا اتحاد چھوڑ سکتا ہے۔

بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے یورپ کی سلامتی میں امریکی کردار کم کرنے کی پالیسی اختیار کی، جس کے تحت یورپ سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کا اعلان کیا گیا، نیٹو کے دفاعی منصوبوں کے لیے فراہم کیے جانے والے وسائل محدود کیے گئے، جن میں طیارہ بردار بحری جہاز، ایندھن فراہم کرنے والے طیارے، جنگی طیارے اور ڈرونز بھی شامل تھے۔ اس کے علاوہ یورپ میں امریکی فوجی موجودگی کا چھ ماہ پر مشتمل جائزہ بھی شروع کیا گیا۔

۔

تجزیہ کاروں کے مطابق انقرہ میں ہونے والا نیٹو سربراہی اجلاس اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان دفاعی تعاون، مشترکہ سلامتی اور اتحاد کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے زیر غور آ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس اجلاس میں نیٹو کے تمام 32 ممالک کے بڑے رہنما شریک ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دو ایسے ملکوں کے صدر بھی آئے ہیں جو نیٹو کا حصہ نہیں ہیں، جن میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور جنوبی کوریا کے لی جے میونگ شامل ہیں۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا، جاپان اور نیوزی لینڈ نے بھی اپنے وزیرِ دفاع یا وزرائے خارجہ بھیجے ہیں، اور خلیجی ممالک جیسے بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) بھی اپنے وزیر بھیج رہے ہیں جو امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اگر امریکا نیٹو چھوڑ دے تو کیا ہوگا؟

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو پر مسلسل تنقید اور اتحاد سے علیحدگی کے اشاروں کے بعد یہ سوال ایک بار پھر زیر بحث آ گیا ہے کہ اگر امریکا واقعی نیٹو سے نکل جائے تو اس کے دنیا اور یورپ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

الجزیرہ کے مطابق دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نیٹو امریکا کے بغیر بھی کسی نہ کسی صورت میں اپنا وجود برقرار رکھ سکتا ہے اور یورپی ممالک ایک الگ دفاعی اتحاد بھی قائم کر سکتے ہیں، تاہم امریکا کی علیحدگی سے یورپ کو شدید دفاعی اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ماہرین کے مطابق یورپ کئی اہم دفاعی شعبوں میں امریکا پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ان میں انٹیلی جنس، نگرانی، جاسوسی، سیٹلائٹ کے ذریعے معلومات کا حصول، فوجی رسد کی فراہمی، فضائی اور میزائل دفاعی نظام جیسی اہم صلاحیتیں شامل ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نیٹو سے الگ ہو جاتا ہے تو یورپی ممالک کو ان صلاحیتوں کا متبادل تیار کرنے میں کم از کم ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے تقریباً ایک کھرب ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ کی دفاعی صنعتیں اس وقت بھی مطلوبہ رفتار سے پیداوار بڑھانے میں مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ کئی یورپی ممالک کی افواج کو نئے فوجیوں کی بھرتی اور موجودہ اہلکاروں کو برقرار رکھنے میں بھی دشواری پیش آ رہی ہے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مرضی سے فوری طور پر امریکا کو نیٹو سے نہیں نکال سکتے۔ امریکی قانون کے تحت نیٹو سے باضابطہ علیحدگی کے لیے امریکی سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یا پھر کانگریس سے قانون کی منظوری درکار ہوگی۔

ماہرین کے مطابق فی الحال ایسا ہونا آسان دکھائی نہیں دیتا کیونکہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے متعدد قانون ساز اب بھی نیٹو کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے مستقبل قریب میں امریکا کے نیٹو سے باضابطہ انخلا کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔

Read Entire Article