Times of Pakistan

'آفس کی ہوا' کیا ہے اور اس سے سب تھکے ہوئے کیوں دکھتے ہیں؟

11 hours ago 4
ARTICLE AD BOX

صبح گھر سے نکلتے وقت انسان ہشاش بشاش، ترو تازہ اور بہترین لباس میں ملبوس ہوتا ہے۔ بالوں کی ترتیب سے لے کر چہرے کی تازگی تک، سب کچھ مکمل کنٹرول میں دکھائی دیتا ہے۔ لیکن شام تک آئینہ ایک مختلف ہی کہانی سنا رہا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تبدیلی کو اب ایک نیا نام دیا گیا ہے، وائرل ہونے والے اس نئے رجحان کو ”آفس ایئر“ کہا جا رہا ہے۔

اس رجحان کے مطابق ایک شخص صبح گھر سے مکمل تیار، تازہ دم اور پُراعتماد حالت میں نکلتا ہے، لیکن دن بھر میٹنگز، کمپیوٹر اسکرین، مصنوعی روشنی اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول میں رہنے کے بعد شام تک اس کی ظاہری حالت بدل جاتی ہے۔ جلد خشک یا بےجان محسوس ہونے لگتی ہے، بال بیٹھ جاتے ہیں اور چہرے پر تھکن نمایاں ہو جاتی ہے۔

اس اصطلاح سے مراد وہ مجموعی احساس اور مشاہدہ ہے جس کے مطابق دفتری ماحول انسان کی ظاہری تازگی کو آہستہ آہستہ متاثر کرتا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اسے ایک عام تجربہ قرار دیتے ہیں جس میں دن کے آخر تک چہرہ زیادہ تھکا ہوا، جلد کم ہائیڈریٹڈ اور مجموعی لُک مدھم ہو جاتا ہے۔

اگرچہ یہ کوئی طبی بیماری نہیں، لیکن ماہرین کے مطابق اس میں کچھ حقیقت ضرور موجود ہے، کیونکہ دفتری ماحول میں کئی ایسے عوامل شامل ہوتے ہیں جو جلد اور بالوں پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

یہ رجحان کیسے مقبول ہوا؟

یہ ٹرینڈ اس وقت تیزی سے مقبول ہوا جب صارفین نے ’آفس جانے سے پہلے‘ اور ’آفس کے بعد‘ اپنی تصاویر کا موازنہ شروع کیا۔ بہت سے لوگوں نے بتایا کہ دن کے آغاز اور اختتام میں ان کے چہرے کی تازگی اور میک اپ کی حالت واضح طور پر بدل جاتی ہے۔

کئی صارفین نے شکایت کی کہ میک اپ دوپہر تک خراب ہونے لگتا ہے، جلد خشک محسوس ہوتی ہے، جبکہ کچھ کے بال چکنے یا بےجان ہو جاتے ہیں۔ اس تجربے نے بڑی تعداد میں دفتری ملازمین کو اپنی طرف متوجہ کیا کیونکہ یہ کیفیت اکثر لوگوں کے ساتھ مشترک ہے۔

ماہرین کے مطابق دفتری ماحول کئی چھوٹے مگر مسلسل اثر ڈالنے والے عوامل پر مشتمل ہوتا ہے جیسے، خشک ایئرکنڈیشننگ، کم نمی، مصنوعی اور تیز فلوروسینٹ لائٹس، مسلسل اسکرین کا استعمال، طویل وقت تک ایک ہی جگہ بیٹھنا، ذہنی دباؤ اور تھکن۔

یہ تمام عوامل مل کر جلد کی نمی کم کر سکتے ہیں، جس سے جلد خشک، حساس یا بےجان محسوس ہونے لگتی ہے، خاص طور پر ایئرکنڈیشنڈ دفاتر میں نمی کی کمی کی وجہ سے جلد سے پانی جلدی اُڑ جاتا ہے، جس سے اسکن بیریئر کمزور ہو سکتا ہے۔ نتیجتاً چہرہ تھکا ہوا اور کم روشن نظر آتا ہے۔

ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ اس کیفیت کی ذمہ داری صرف دفتر پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ روزمرہ طرزِ زندگی بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آلودہ شہروں میں رہنے والے افراد پہلے ہی دھول، دھوئیں اور گرمی کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گھر سے دفتر تک کا سفر، شدید موسم کی تبدیلی، نیند کی کمی، زیادہ کیفین کا استعمال اور پانی کم پینا بھی جسم اور جلد پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ دفتر کی مصنوعی روشنی بھی ایک اہم عنصر ہے جو چہرے کی تھکن اور سائے زیادہ نمایاں کر دیتی ہے، جس سے انسان حقیقت سے زیادہ تھکا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

اس رجحان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ روزانہ اپنی جلد اور بالوں میں ہونے والی تبدیلیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ جلد جب پانی کی کمی کا شکار ہوتی ہے تو وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ تیل پیدا کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے دن کے آخر میں چہرہ ایک ساتھ خشک بھی محسوس ہو سکتا ہے اور چکنا بھی۔ بالوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔ خشک ہوا بالوں سے نمی چھین لیتی ہے، جس سے وہ یا تو پھولے ہوئے یا پھر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے سے کیسے نمٹا جائے؟ تو اس سلسلے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا حل پیچیدہ نہیں بلکہ سادہ عادات میں چھپا ہے۔

دن بھر مناسب پانی پینا، جلد کو نمی دینے والی مصنوعات کا استعمال، بہت زیادہ پاؤڈر یا میک اپ کی تہیں لگانے سے گریز، سادہ اسکن کیئر روٹین اپنانا، سن اسکرین کا استعمال آفس کے اندر بھی، وقفے وقفے سے آنکھوں اور جسم کو آرام دینا، ہلکی واک یا تازہ ہوا میں وقت گزارنا۔

اس کے علاوہ ہینڈ کریمز، ہونٹوں کے لیے لپ بام اور ہلکا فیس مسٹ جیسے چھوٹے اقدامات بھی دن بھر تازگی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

“آفس ایئر“ بظاہر ایک سوشل میڈیا اصطلاح ہے، لیکن یہ جدید دفتری زندگی کے ایک عام تجربے کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ دفتر خود نقصان دہ نہیں، مگر اس کا ماحول، طرزِ زندگی اور روزمرہ عادات مل کر انسان کی ظاہری تازگی پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ رجحان دراصل جدید ورک کلچر میں تھکن اور ڈی ہائیڈریشن کے ایک خاموش مگر عام مسئلے کو نئے انداز میں بیان کر رہا ہے۔

Read Entire Article