ARTICLE AD BOX
بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کا 'جدہ پورٹ' بھی نئے علاقائی مرکز کی حیثیت اختیار کر رہا ہے: اے ایف پی
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش نے عالمی تجارتی راستوں کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ لاجسٹکس اور میری ٹائم ذرائع کے مطابق بحری جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کے بعد افریقہ زمینی راستے سے سامان کی ترسیل کا نیا اور اہم مرکز بن کر اُبھرا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے خلیجی ممالک تک سامان کی ترسیل کے لیے بھی زمینی راستوں کا استعمال شروع کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق لاجسٹکس اور میری ٹائم ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ناکہ بندی کے بعد شپنگ کمپنیاں ٹرکوں کے ذریعے سامان کی ترسیل کے لیے نئے زمینی راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر پر واقع سعودی عرب کی ’جدہ‘ بندرگاہ اب ایک نئے علاقائی ’ہب‘ کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔ ایم ایس سی، مائرسک، کوسکو اور سی ایم اے سی جی ایم جیسی بڑی عالمی شپنگ کمپنیاں اب نہر سوئز کے راستے اپنا کارگو جدہ پہنچا رہی ہیں۔
یہاں سے سامان کو ٹرکوں پر لاد کر ہائی ویز کے ذریعے شارجہ، بحرین اور کویت جیسے علاقوں تک پہنچایا جا رہا ہے، جہاں گزشتہ دو ماہ سے سمندری راستے سے کوئی سپلائی نہیں پہنچ سکی تھی۔
تاہم اس اچانک تبدیلی نے نئے چیلنجز بھی پیدا کر دیے ہیں۔ فریٹ فارورڈنگ کمپنی ’اووَرسی‘ کے شریک بانی آرتھر باریلاس کا کہنا ہے کہ ’جدہ کی بندرگاہ اس بڑھتے دباؤ کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہاں اب تاخیر اور رش میں اضافہ ہورہا ہے۔‘
اعداد و شمار کے مطابق جدہ میں جہازوں کے انتظار کا اوسط وقت پچھلے ہفتے کے 17 گھنٹے کے مقابلے میں بڑھ کر 36 گھنٹے ہو چکا ہے۔
اس دباؤ کو کم کرنے کے لیے شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز کے باہر واقع تین دیگر بندرگاہوں کو بھی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں عمان کی ’صحار‘ اور متحدہ عرب امارات کی ’خورفکان‘ اور ’فجیرہ‘ بندرگاہیں شامل ہیں۔
خطے کے دیگر ممالک تک سامان پہنچانے کے لیے بھی نئے روٹس وضع کیے گئے ہیں۔ اردن کی ’عقبہ‘ بندرگاہ کو اب عراق کے شہروں، بغداد اور بصرہ تک سامان پہنچانے کے لیے بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جب کہ ترکیہ کے راستے شمالی عراق تک تجارتی سامان کی ترسیل کی جا رہی ہے۔
نہرِ سوئز سے گریز اور افریقہ (کیپ آف گڈ ہوپ) کا رخ
اے ایف پی کے مطابق ایشیا اور یورپ کے درمیان چلنے والے بحری جہاز اب بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے کے بجائے افریقہ کے مشرقی ساحل سے ہوتے ہوئے جنوبی سرے ’کیپ آف گُڈ ہوپ‘ کا طویل راستہ اپنا رہے ہیں۔ گوکہ یہ سلسلہ نومبر 2023 میں یمن سے حوثی ملیشیا کے حملوں کے بعد شروع ہوا تھا لیکن مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے بعد اس میں تیزی آ گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے پورٹ واچ پلیٹ فارم کے مطابق ’کیپ آف گُڈ ہوپ‘ کے راستے تجارتی ٹریفک میں گزشتہ تین سالوں میں تین گنا سے زیادہ اجافہ ہوا ہے جو یومیہ اوسط 6 سے بڑھ کر 20 جہازوں تک پہنچ گئی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں باب المندب کی ٹریفک یومیہ 18 جہازوں سے کم ہو کر صرف 5 رہ گئی ہے۔
سپلائی چین کے ماہرین کے مطابق 2023 میں بحیرہ احمر سے گزرنے والی 70 فیصد ٹریفک اب ’کیپ آف گُڈ ہوپ‘ کی طرف موڑ دی گئی ہے۔
اقتصادی اثرات، اخراجات میں اضافہ اور مصر کا نقصان
رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے طویل فاصلے کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے درمیان ترسیل کے وقت میں اوسطاً دو ہفتے کا اضافہ ہوا ہے۔
طویل روٹ کے باعث 30 سے 50 فیصد اضافی ایندھن اور سروس برقرار رکھنے کے لیے 10 سے 20 فیصد مزید جہازوں کی ضرورت پڑ رہی ہے، جس نے مجموعی لاگت میں اضافہ کر دیا ہے۔ گزشتہ سال کی نسبت رواں برس اپریل کے مہینے میں مال برداری کے اخراجات میں 14 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
جہاں اس صورتِ حال سے مراکش کی ’ٹینجر میڈ‘ جیسی افریقی بندرگاہوں کی تجارتی سرگرمیوں میں 8.4 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہیں مصر کو نہر سوئز کی ٹریفک کم ہونے سے بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں مصر کو ’ٹول ریونیو‘ کی مد میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جو کہ 2023 کے مقابلے میں 60 فیصد سے زائد کی گراوٹ ہے۔
.png)
4 hours ago
4







English (US) ·