ARTICLE AD BOX
جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کروں گا: لبنانی صدر کا بیان
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام سے براہِ راست مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت ہی واحد راستہ ہے، کیونکہ فوجی حل کبھی بھی مستقل سیکیورٹی اور تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ ہم تیار ہیں، ہم آمادہ ہیں، ہم پُرعزم ہیں۔ کیا آپ بھی ہیں؟ اگر آپ تیار ہیں تو آئیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ لبنانی حکومت جنگ بندی اور مکمل طور پر دشمنی کے خاتمے کے لیے واشنگٹن کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کر رہی ہے۔
صدر عون نے واضح کیا کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنے سے پہلے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدہ مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ عدم جارحیت کے معاہدے کی صورت میں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا، اور یہ معاہدہ منصفانہ اور دیرپا امن کی جانب ایک راستہ بن سکتا ہے۔
لبنانی صدر کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ ان کا ملک 2002 کے عرب امن اقدام کے مطابق آگے بڑھے گا، جس کے تحت اسرائیل کے ساتھ عرب دنیا کے تعلقات کو معمول پر لانے کی پیشکش فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کے بدلے کی گئی تھی۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس منزل تک فوری طور پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ ہم براہِ راست ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے تک نہیں جا سکتے، ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔
صدر جوزف عون نے انٹرویو میں ایران کے بارے میں بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان ایران کے ساتھ باہمی احترام اور عدم مداخلت پر مبنی اچھے تعلقات چاہتا ہے، تاہم لبنانی عوام ایران کے مفادات کی خاطر مارے جا رہے ہیں۔
سی این این کو دیے گئے انٹرویو کے ایک اور حصے میں، جو جمعہ کو نشر کیا گیا تھا، صدر عون نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ تہران کے خلاف ان کی اب تک کی سخت ترین تنقید میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ موجودہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب حزب اللہ نے اپنے اتحادی تہران کی حمایت میں اسرائیل پر حملے کیے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشن شروع کیے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے وسیع علاقے اسرائیلی قبضے میں آ چکے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک لبنان میں 3 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ لبنانی شہری بے گھر ہو چکے ہیں۔
امریکا نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، تاہم اس کے باوجود جھڑپیں جاری رہیں۔ لبنانی حکام کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیل تقریباً 3 ہزار 500 حملے کر چکا ہے۔
اتوار کو اسرائیل نے شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کی فائرنگ کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان 24 گھنٹے تک براہِ راست فائرنگ اور حملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔
.png)
4 hours ago
2





English (US) ·